(Zarb-e-Kaleem-201) (قوموں کے لئے موت ہے مرکز سے جدائی) Qaumon Ke Liye Mout Hai Markaz Se Judai

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی
ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی!

جو فقر ہوا تلخی دوراں کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی

اس دور میں بھی مرد خدا کو ہے میسر
جو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائی
پربت: پہاڑ۔
در معرکہ بے سوز تو ذوقے نتواں یافت
اے بندئہ مومن تو کجائی، تو کجائی
اے ایمان والے بندے! تو کہاں ہے؟ تیرے سوز اور تیری حرارت کے بغیر جنگ و جدل میں کوئی لذت نہیں پائی جاتی۔
خورشید ! سرا پردئہ مشرق سے نکل کر
پہنا مرے کہسار کو ملبوس حنائی
حنائی: مہندی رنگ، سرخ۔
ملبوس: لباس پہنے۔

اس غزل میں اقبال نے، فقر کے بعض گوشوں کو بے نقاب کیا ہے. پہلا شعر قوم کی خاص توجہ کے لائق ہے فرماتے ہیں کہ

(١) جو قوم مرکز سے جدا ہو جاتی ہے وہ بحیثیت قوم یقیناً فنا ہوجاتی ہے یہ دوسری بات ہے کہ اس کے افراد، دیگر حیوانات عالم، بقر، فرس، حمار کی طرح، علم الحیوۃ کے زاویہ نگاہ سے زندوں میں شمار کئے جا سکیں.

مرکز سے وابستگی، قوم کے حق میں ایسی ہے، جیسے اوراق کتاب کے لیے شیرازہ، شیرازہ ٹوٹ جائے تو اوراق منتشر ہوجاتے ہیں اور چند روز کے بعد کتاب، معدوم ہوجاتی ہے. اسی طرح افراد قوم مرکز سے جدا ہو جائیں تو بلامبالغہ منتشر ہوجاتے ہیں، اور دنیا میں ان کی کوئی وقعت یا قدروقیمت باقی نہیں رہتی وہ باآسانی دوسری قوم کے غلام بن جاتے ہیں.

اور اگر اس قوم کے ہر فرد کی خودی، کسی مرکز معین سے خواہ وہ محسوس ہو یا غیر محسوس، وابستہ ہو جائے، بالفاظ دگر، اس قوم کی زندگی میں اجتماعی خودی کا رنگ پیدا ہوجائے، اور وہ اجتماعی خودی مرکز سے مربوط ہو جائے اجتماعی خودی سے میری مراد یہ ہے کہ پوری قوم میں وحدت افکارو کردار پیدا ہوجائے تو اس خودی میں، خدائی صفات کا رنگ پیدا ہوجاتا ہے. یعنی وہ قوم دنیا میں حکمراں، فرمانروا، سربلند اور معزز ہو جاتی ہے.

واضح ہو کہ خودی کی تین قسمیں ہیں.
(ا) انفرادی خودی مثلا زید کی خود یا ہندہ کی خودی.

(ب) اجتماعی خودی کسی قوم کے افراد کا تصورات وافکار کے اعتبار سے ایسا ہم اہنگ ہوجانا کہ سب افراد ایک ہو جائیں، ہر افراد کا مقصد وہی ہو، جو دوسروں کا ہے. یعنی پوری قوم کی صرف ایک ہی خودی نظر آنے لگے. مثلاً روس کی خودی.

نوٹ=
آج تمام دنیا کے اشتراکیوں کی خودی خواہ وہ روس میں رہتے ہوں یا پاکستان میں، ایک ہوگئی ہے. یعنی ان کے اندر اجتماعی خودی پیدا ہوگئی ہے.

(ج) کائناتی خودی یعنی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات، جس کے بغیر اس کائنات کی یا اس کی کسی شئے کی کوئی قدروقیمت ہی معین نہیں کی جاسکتی. کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خودی کائنات اور مافیہا کی قدروقیمت کا معیار ہے.

اسی حقیقت کو اقبال نے اپنے رنگ میں یوں بیان کیا ہے.

ہر کجا بینی جہان رنگ وبو
آنکہ ازخاکش بردید آرزو!
یازنور مصطفےٰ اور ابہااست
یا ہنوز اندر تلاش مصطفےٰ است

قرآن مجید نے اسی اجتماعی خودی کی اہمیت کو اس آیت سے واضح فرمایا ہے.

………… اے مسلمانو! تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی
…………. کے ساتھ تھام لو، اور آپس میں تفریق پیدا مت کرو کیونکہ تفریق، توحید کی ضد ہے یعنی پھوٹ مت ڈالو.

شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن صاحب نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے کہ تم سب مل کر قرآن کو مضبوط تھامے رہو، جو خدا کی مضبوط رسی ہے یہ رسی ٹوٹ تو نہیں سکتی، ہاں چھوٹ سکتی ہے. اگر تم سب مل کر اس کو پوری قوت سے پکڑے رہو گے، تو کوئی شیطان مثلا انگریز اپنی شرانگیزی میں کامیاب نہ ہو سکے گا. اور نفرادی زندگی کی طرح، مسلم قوم کی اجتماعی زندگی یا قوت بھی غیر متزلزل اور ناقابل اختلال ہوجائے گی. قرآن کریم سے تمسک کرنا ہی وہ چیز ہے، جس سے بکھری ہوئی قوتیں جمع ہوتی ہیں، اور ایک مردہ قوم حیات تاز حاصل کرتی ہے. لیکن تمسک بالقرآن کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن حکیم کو اپنی آراء کا تختہ مشق بنا لیا جائے. بلکہ قرآن کریم کا وہی مطلب بہتر ہوگا جو احادیث صحیحہ اور سلف صالحین کے متفقہ تصریحات کے خلاف نہ ہو.

نوٹ=
آج ہندوستان پاکستان، بلکہ سارے عالم میں مسلمانوں کی ذلت اور رسوائی، غلامی اور محکومی کا باعث یہی فقدان مرکز تو ہے. کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جس قوم کو اللہ نے ایک چھوڑ تین مرکز عطا فرمائے ہوں، وہ قوم آج دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل وخوار ہے سب سے زیادہ جاہل ہے. اور سب سے زیادہ بلکاریوں میں مبتلا ہے.

(ا) مسلمانوں کا پہلا مرکز مادی اور محسوس ہے، جس کا نام خانہ کعبہ ہے اس میں یہ نکتہ ہے کہ قوم ہر شخص ذہنی اعتبار سے بلند نہیں ہوتا. اس لیے اللہ نے عامتہ الناس کی رعایت فرما کر ایک مرکز ایسا عطا کیا جو آنکھوں سے جو بھی نظر آسکتا ہے اور اسے چھوبھی سکتے ہیں.

(ب) دوسرا مرکز غیر مادی ہے مگر محسوس ہے جس کا نام قرآن حکیم ہے. یہ کلام پاک اس لحاظ سے کہ اللہ کا کلام ہے غیر مادی ہے لیکن اس لحاظ سے کاغذ پر مرقوم ہے. محسوس ہے تاکہ عامی اور عالم دونوں اس مرکز سے وابستہ ہو سکیں.

(ج) تیسرا مرکز وہ ہے. غیر مادی ہے اور غیر محسوس ہے اور چونکہ مسلمان کی زندگی اس پر موقوف ہے. اس لیے وہ اس سے جدا نہیں ہے بلکہ اس کے دل میں موجود ہے. کماقال اقبال.

دردل مسلم مقال مصطفےٰ است
آبروئے ناز نام مصطفےٰ است
اور………………

اگر اس مرکز اصلی سے وابستگی نہ ہو تو نہ تلاوت قرآن حکیم سے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے نہ طواف کعبہ سے. اسی لیے اقبال نے یہ کہا تھا.

مصطفےٰ برساں خویش راجہ دیں ہمہ اوست
اگر بادنر سیدی تمام بولہبی است

یہ بے مرکزی ہی کا تو نتیجہ ہے کہ ہم اگرچہ تعداد میں چالیس کروڑ سے زیادہ ہیں، لیکن اینگوامرلکین بلاک کے گھوڑے کی دم سے بندھے ہوئے ہیں.

(٢)اگر کوئی شخص فقر کا مدعی ہو، اور اس کے باوجود دنیا کی مصیبتوں کو خندہ
پیشانی سے برداشت نہ کرسکے تو یقین جانو کہ وہ شخص اپنے دعوی میں کاذب ہے یعنی اس کے اندر شان فقر پیدا نہیں ہوئی ہے.

اقبال نے گدائی کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ بظاہر صاحب فقر، اور گدا دونوں یکساں ہوتے ہیں یعنی صاحب فقر بھی فقیر ہوتا ہے اور گدا بھی فقیر ہوتا ہے دونوں کے پاس دولت ثروت، اور ظاہری شان وشوکت نہیں ہوتی. مثلاً گدا یعنی عرف عالم میں فقیر کے کرتے میں بھی پیوند لگے ہوتے ہیں اور فاروق اعظیم کے کرتے میں بھی پیوند لگے ہوتے ہیں. لیکن فرق یہ ہے کہ گدا دولت کا متمنی ہوتا ہے، اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے مگر صاحب فقر یعنی اصطلاحی فقیر دولت کو پائے استغناء سے ٹھکرا دیتا ہے. وہ اس کے سامنے دست بستہ حاضر ہوتی ہے. لیکن وہ اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا خلاصہ کلام یہ ہے کہ گدا محتاج ہوتا ہے، صاحب فقر محتاج نہیں ہوتا. پس جو فقیر تلخی دوراں کی شکایت کرے، وہ صاحب فقر نہیں ہے. بلکہ گدا ہے.

(٣) اے مخاطب یہ مت سمجھ کہ اب، اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی پیدا ہو گئی ہے. یا اب فقر کے معجزات ختم ہوگئے ہیں. اس دور میں بھی، اگر کوئی شخص سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرے تو اس میں یہ طاقت پیدا ہوسکتی ہے کہ وہ پربت کورائی بنا سکتا ہے. یعنی اپنے زمانہ کے فرعونوں کو زیر کر سکتا ہے.

(۴) حقیقت یہ ہے کہ حق وباطل کے معراکہ میں جب تک مرد مومن اپنے سوزودوں سے مجاہدوں کے قلوب کو نہ گرمائے، اس وقت تک اس معرکہ میں وہ ذوق و شوق پیدا نہیں ہوسکتا جو مجاہدوں کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے. اس لیے محراب گل اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ اس زمانہ میں بھی مسلمانوں کی سربلندی کے لیے کسی مومن کو پیدا کردے.

نوٹ=
ذوقے میں یائے تخصیصی ہے، یعنی ایک خاص، قسم کا ذوق ی کی کئی قسمیں ہیں. مثلاً یائے تنکیری، یائے توصیفی، یائے نسبتی وغیرہ.

(۵) اس شعر میں محراب گل، عالم تصور میں، اسی مرد مومن سے جس کے ظہور کی اس نے گزشتہ شعر میں تمنا کی ہے. خطاب کرتا ہے اے بندہ مومن کسی مشرقی ملک سے ظہور کر! اور کوہستانی علاقہ کو سرخ رنگ کا لباس پہنا دے! یعنی معرکہ کا رزار گرم کردے!

نوٹ=
سرخ رنگ سے آفتاب کی روشنی ہو سکتی ہے. اور خون شہیداں بھی مراد ہو سکتا ہے.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close