(Zarb-e-Kaleem-202) (آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو) Aag Uss Ki Phoonk Deti Hai Barna-o-Peer Ko

آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو

آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
لاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحب یقیں
برنا و پیر: جوان اور بوڑھے۔
ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی
وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگیں
کوہ و دشت: پہاڑ اور بیابان۔
خزف: ایسی سیپی جس میں موتی نہ ہو۔
تو اپنی سرنوشت اب اپنے قلم سے لکھ
خالی رکھی ہے خامہ حق نے تری جبیں

یہ نیلگوں فضا جسے کہتے ہیں آسماں
ہمت ہو پرکشا تو حقیقت میں کچھ نہیں

بالائے سر رہا تو ہے نام اس کا آسماں
زیر پر آگیا تو یہی آسماں، زمیں!

اس نظم میں میں محراب گل نے فقیر کی صفات کی ہیں.

(١) لاکھوں انسانوں میں اگر ایک شخص بھی صاحب یقین، یعنی صاحب فقر ہو تو وہ تن تنہا اس پوری جماعت میں جہاد کا ولولہ پیدا کر دیتا ہے. جوان اور بوڑھے سب اللہ کی راہ میں سر کٹانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں.

(٢) لیکن اس خوبی کا انسان کہیں صدیوں میں جاکر پیدا ہوتا ہے جو اپنی صحبت سے خزف یا ٹھیکری دنیا پرست کو نگین خدا پرست بنا دے.

(٣) اے مخاطب! تو یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے تیری تقدیر، اپنے قلم سے تیری پیشانی میں لکھدی ہے، لیکن اگر تو اپنے اندر شان فقر پیدا کرے تو یہ ممکن ہے کہ تو اپنی سرنوشت خود اپنے قلم سے لکھ سکے. یعنی اللہ نے تجھے مجبور محض بناکر دنیا میں نہیں بھیجا ہے. بلکہ تجھے ترقی کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے. اگر تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے تو کامیابی تیرے قدم چوم سکتی ہے.

نوٹ=
راقم الحروف کی والدہ صاحبہ محرومہ اللہ انہیں جنت عطا فرمائے، کلام اقبال کا مطالعہ بڑے ذوق وشوق کے ساتھ فرمایا کرتی تھیں. اقبال کی کوئی نہ کوئی کتاب ہمیشہ ان کے سرہانے رکھی رہا کرتی تھی. اکثر اس خام کار اور کم سواد فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے ڈاکٹر صاحب کے کلام میں سب سے بڑی خوبی یہی نظر آتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو عمل کی تلقین کرتے ہیں، انسان کی تقدیر اس کے ہاتھ میں ہے. تقدیر کا بہانہ صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو درحقیقت عمل سے نفور ہیں. انسان اگر کوشش کرے تو کامیابی یقینی ہے. اللہ کسی محنتی کی محنت رائیگاں نہیں کرتا.

(۴) آسمان تک پہنچنا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے، لیکن اگر انسان ہمت سے کام لے تو آسمان تک پہنچ سکتا ہے، یعنی ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے.

اس شعر کا لفظی مطلب مراد نہیں ہے بلکہ اقبال کا مقصد اسے یہ ہے کہ ہمت کی قدروقیمت مسلمانوں کے ذہن نشین ہوجائے وجہ ہوکہ ہمت اتنی بڑی چیز ہے کہ تصوف میں سالک کی روحانی ترقی کا سارا دارومدار اسی ہمت پر ہے. اور شیخ کی صحبت میں رہنے سے یہی تو فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ مرید میں ہمت سے کام لینے کی صلاحیت بیدار ہوجاتی ہے. شیخ کی توجہ اسی نکتہ پر مرکوز ہوتی ہے. کہ سالک اپنی ہمت سے کام لے کر روحانی مدارج طے کر سکے.

(۵) جبتک آدمی، ہمت سے کام نہیں لیتا. مقام فقر اسے بہت اونچا نظر آتا ہے. یعنی وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس مقام کا حصول بہت دشوار ہے لیکن جب وہ ہمت سے کام لیتا ہے. تو وصول الی اللہ آسان ہو جاتا ہے. یہ نکتہ اس آیت سے ماخوذ ہے.

………. اور جو لوگ ہم تک پہنچنے کے لیے جدوجہد
………. ‏ کرتے ہیں اور جدوجہد ہمت کے بغیر ممکن
……… ‏ نہیں، تو البتہ ضرور ضرور ہم ان کو اپنے
…….. ‏ پاس پہنچنے کی راہیں دکھاتے ہیں.

‏یعنی جو لوگ مجاہدات میں سرگرم رہتے ہیں، اللہ ان کو ایک خاص نور بصیرت عطا فرماتا ہے. اور اپنے قرب کی راہ سمجھاتا ہے.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close