(Zarb-e-Kaleem-203) (یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے) Ye Nukta Khoob Kaha Sher Shah Suri Ne

یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے

یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے
کہ امتیاز قبائل تمام تر خواری

عزیز ہے انھیں نام وزیری و محسود
ابھی یہ خلعت افغانیت سے ہیں عاری
وزیری و محسود: دو افغان قبیلے جو آج کل سیکولر دنیا کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔
ہزار پارہ ہے کہسار کی مسلمانی
کہ ہر قبیلہ ہے اپنے بتوں کا زناری
قبائل کو امت پر ترجیح دینے کو بت پرستی کہا ہے۔
وہی حرم ہے، وہی اعتبار لات و منات
خدا نصیب کرے تجھ کو ضربت کاری

اس نظم میں محراب گل نے، قبائلی امتیاز کی برائیاں بیان کی ہیں. واضح ہو کہ اسلام نے ہر قسم کے باطل امتیازات قومی، وطنی، نسلی، لسانی، لونی اور قبائلی کو مٹا کر صرف ایک امتیاز قائم کیا ہے. یعنی………………. اے مسلمانو! بزرگی یا فضیلت کا صرف ایک معیار ہے، اور وہ نہ قومی ہے، نہ نسلی، نہ لسانی، نہ قبائلی، بلکہ وہ یہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مکرم اور معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے.

محراب گل نے، شیر شاہ سوری کا نام اس لیے لیا کہ اس دیندار، درویش صفت علم دوست، اور سچے مسلمان جس کے کارناموں سے آجکل کے تعلیم یافتہ مسلمان بہت کم واقف ہیں ہمیشہ مسلمانوں کو وحدت ملی کا درس دیا مجھے افسوس ہے کہ میں اس کتاب میں اس عادل بادشاہ کے کارناموں کو مفصل طور پر بیان نہیں کر سکتا. صرف اس قدر لکھتے پر اکتفا کرتا ہوں کہ اگر اس نامور فرمانروا کے جانشین بھی اس کی طرح قابل اور حوصلہ مند ہوتے تو ہمایوں، اکبر، اور جہانگیر کو ہندوستان میں شائر اسلامی کی تحقیر کا موقع ہرگز نہ ملتا.

نوٹ=
اگر اللہ نے مجھے توفیق دی، تو میں پاکستان کے طلبہ کے لیے ہندوستان کی تاریخ اپنے زاویہء نگاہ لکھوں گا. جس میں بادشاہوں کے ساتھ ساتھ، بزرگان دین اور علمائے حق کے کارنامے بھی قلمبند کروں گا. اور ان تمام غلط بیانیوں کی تردید کروں گا جو انگریز اور ہندو مورخین نے، تاریخ ہند خصوصاً مسلمانوں کے دور حکومت میں روا رکھی ہیں. اور جن کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے نفرت پیدا ہوجائے. اور مسلمان حق صداقت سے آشنانہ ہو سکیں…………

(١) سلطان شیر شاہ سوری،…….تا……… نے اپنی قوم کے افراد کو کیسا اچھا نکتہ سمجھایا کہ اگر تم قبائلی امتیاز روا رکھو گے تو دنیا میں ہرگز ترقی نہ کر سکو گے.

(٢)لیکن افسوس کہ افغانوں نے اس نکتہ کو ذہن نشین نہ کیا. چنانچہ وہ ابھی تک افغان کے بجائے، وزیر اور آفریدی، محسوس اور مہمندی کے لقب کو محبوب رکھتے ہیں. اور ہر قبیلہ اپنے سامنے دوسرے قبائل کو کمتر سمجھتا ہے، جس کا نتیجہ باہمی رقابت کے سوا کچھ نہیں ہے اور اس لیے یہ مختلف قبائل رات دن آپس میں برابر سر پیکار رہتے ہیں.

(٣) ہر قبیلہ، اپنے آپ کو، اور اپنے مورث اعلیٰ کے نام کو، دوسروں سے برتر سمجھتا ہے. گویا قبیلہ کا نام ،ان لوگوں کی نظر میں بت کا مرتبہ رکھتا ہے. جس کی پرستش میں یہ لوگ سرگرم ہیں.

(۴) اندریں حالات، ان لوگوں کی معاشرتی زندگی، اسی نوعیت کی ہے. جیسی کہ جہاہلیت کے زمانہ میں عربوں کی تھی ظہور اسلام سے پہلے عربوں کے ہر قبیلہ کا بت جداگانہ تھا. اسی طرح آج سرحد کے قبائل بھی اپنے اپنے بتوں کی پرستش کر رہے ہیں.

اس لیے محراب گل دعا کرتا ہے کہ خدا کرے کوئی مرد مومن ایسا پیدا ہوجائے جو سرحد علاقہ کے لات ومنات کو توڑ کر افغانوں کو ازسر نو مسلمان بنا سکے.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close