(Zarb-e-Kaleem-204) (نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے) Nigah Woh Nahin Jo Surkh-o-Zard Pehchane

نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے

نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہیں

فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن
قدم اٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیں

کھلے ہیں سب کے لیے غربیوں کے میخانے
علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں

اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری
ترے بدن میں اگر سوز ‘لاالہ’ نہیں

سنیں گے میری صداخانزاد گان کبیر؟
گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ نہیں
خانزاد گان کبیر: بڑے خاندانوں کے فرزند۔
پوش : گدڑی پہنے ہوئے۔ گلیم

اس غزل میں محراب گل, یعنی اقبال نے بعض حقائق ومعارف بیان کئے ہیں فرماتے ہیں کہ

(١) نگاہ کے دو قسمیں ہیں. ایک نگاہ تو وہ ہے جس کی مدد سے ہم مختلف رنگوں میں امتیاز کرتے ہیں. یعنی ظاہر نگاہ جو عامی اور عالم دونوں کے پاس ہے. یہ نگاہ بھی ضروری ہے. کیونکہ مادی ترقی تمامتر اسی نگاہ پر موقوف ہے. لیکن انسان صرف مادہ نہیں ہے. وہ اس سے بالاتر ایک حقیقت روحانی بھی تو ہے، اس لیے اسے وہ نگاہ بھی پیدا کرنی لازم ہے جو دیکھنے کے لیے محتاج مہر وماہ ہو. اور اقبال کی رائے حقیقی نگاہ وہی ہے جو مادی وسائل مذکورہ بالاکی محتاج نہ ہو. یعنی اسلام، ایسا پاکیزہ ضابطہ حیات ہے کہ انسان کے اندر ظاہری نگاہ کے علاوہ باطنی نگاہ بھی پیدا کردیتا ہے. اور اقبال اپنی قوم سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ نگاہ بھی پیدا کرو، جو روشنی، یا وسائل خارجی کی محتاج نہ ہو، یعنی دل کی نگاہ جو فقر کی دولت پیدا ہوسکتی ہے. تاریخ اسلام میں اس کی بہت سی مثالیں مل سکتی ہیں. چنانچہ فاروق اعظیم نے اسی نگاہ کی بدولت، مدینہ منورہ کی مسجد میں بیٹھے بیٹھے اپنی ان فوجوں کو دیکھ لیا تھا، جو ملک شام میں کافروں سے برسرپیکار تھیں. واضح ہو کہ یہ نگاہ صرف مرشد کی صحبت سے پیدا ہوسکتی ہے. اور کوئی صورت نہیں ہے. قانون قدرت یہی ہے کہ چراغ صرف، چراغ سے جل سکتا ہے. اسی لیے اقبال نے اپنی ہر تصنیف میں ہر جگہ صحبت مرشد کی اہمیت کو واضح کیا ہے.

نوٹ=
میری رائے میں یہ ہماری قومی ٹریچڈی ہے. وہ سانحہ جس کا شکار پوری قوم ہوچکی ہے. کہ آج ہماری قوم کے مصلحین وہ بزرگ ہیں. سند اصلاح پر وہ لوگ جلوہ فرما ہیں، جو خود محتاج اصطلاح ہیں. کیا ستم ظریفی ہے کہ جنہوں نے خود کسی مصلح کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی، وہ دوسروں سے بیعت لے کر انہیں صالحیت کا سرٹیفکیٹ عطا کر رہے ہیں.

(٢) اے مسلمان تیری منزل، کفار فرنگ، خصوصاً انگریزوں سے بہت آگے ہے. اس کی معراج تو بس یہی مادی ترقی ہے. ریڈیو، لاسلکی، ٹیلی ویژن وغیرہ وغیرہ. لیکن تو خلیفۃ اللہ علی الارض ہے اس لئے قدم اٹھا اور تسخیر کائنات کے بعد اس روحانی مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کر
(٣) آج پاکستان اور دیگر مسلمان ملکوں میں، مغربی علوم فنون عام طور سے مروج ہیں. اور ان کا حاصل کرنا بھی گناہ نہیں ہے.

(۴)لیکن اگر مسلمانوں کے دلوں میں توحید کا عقیدہ راسخ نہیں ہے تو پھر اس میں بھی شک نہیں کہ یہ علوم فنون اس کی گمراہی کا سبب بن جائیں گے پس مسلمانوں کو لازم ہے کہ پہلے اپنے عقیدے درست کریں، پھر مغربی علوم پڑھیں.

(۵) چونکہ میں دنیاوی اعتبار سے بڑا آدمی نہیں ہوں. نہ وزیر ہوں، نہ سفیر ہوں. یعنی صاحب کلاہ نہیں ہوں، بلکہ محض گلیم پوش درویش ہوں اس لیے مجھے یقین نہیں کہ سرحد کے خوانین اور خوانین زادے میری باتوں پر توجہ کریں گے.

بات بھی ٹھیک ہے. آج مسلمانوں کی ظاہر پرستی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اگر کوئی بڑا آدمی خواہ وہ بذات خود سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کی نسبت بھی نہ رکھتا ہو، کسی پرفضا پارک میں، میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر تقدیر کرنے آ جائے، اس اسوہ حسنہ پر، جس کو وہ خود کبھی اپنے سامنے نہیں رکھتا، تو ہزاروں مسلمان، اس کی تقدیر دلپذیر سننے کے لیے جمع ہو جائیں گے. لیکن وہی بات اور وہی مضمون اگر کوئی گلین پوش ملا، محلہ کی مسجد میں بیان کرے تو کوئی صاحب سے سننے کے لیے اپنے ڈرائنگ روم سے نکل کر اس مسجد تک نہیں آئیں گے. یعنی آج کل بات کو نہیں دیکھتے، بلکہ بات کہنے والے کو دیکھتے ہیں.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close