(Zarb-e-Kaleem-205) (فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی) Fitrat Ke Maqasid Ki Karta Hai Nigahbani

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی

دنیا میں محاسب ہے تہذیب فسوں گر کا
ہے اس کی فقیری میں سرمایہ سلطانی

یہ حسن و لطافت کیوں ؟ وہ قوت و شوکت کیوں
بلبل چمنستانی، شہباز بیابانی!

اے شیخ ! بہت اچھی مکتب کی فضا، لیکن
بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی

صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا
تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی

صہبائے مسلمانی: اسلام کی شراب۔

(١) محراب گل کہتا ہے کہ فطرت کے مقاصد کی نگہبانی، بلکہ تکمیل یابندہ صحرائی کرسکتا ہے. یا مرد کوہستانی.

فطرت کے مقاصد یہ بہت بلیغ ترکیب ہے. جو اقبال نے اپنے مفہوم کے ہار کے لیے استعمال کی ہے. فطرت کے مقاصد اس قدر متنوع اور گوناگوں ہیں کہ اگر ان کی تفصیل کی جائے تو ایک رسالہ مرتب ہوسکتا ہے. میں چند اشارات پر اکتفا کروں گا اور پہلے لفظ فطرت کی تشریح کروں گا.

واضح ہو کہ لفظ فطرت تین معنوں میں مستعمل ہے.

(ا) فطرت مبنعی خلقت یا نیچر اس اعتبار سے لفظ فطرت کائنات کا مرادف ہے. اور اقبال نے اس لفظ کو اس مصرع میں اسی مفہوم کے اظہار کے استعمال کیا ہے.

(ب) فطرت مبعنی انسان کی جبلت، یا وہ باتیں جو تمام انسانوں کی سرشست میں یکساں طور پر پائی جاتی ہیں. مثلاً انسان کی فطرت ہے کہ وہ جلد باز ہے.

(ج) فطرت مبعنی اللہ کا انداز یا طریق تخلیق.

قرآن مجید میں فطرت کا لفظ سورۃ الروم آیت میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے.

………. پس تو سیدھا رکھ اپنا منہ دیکھ دین پر، ایک
……… طرف کا ہوکر اور وہ دین کیا ہے وہی
……… ‏ اللہ کی تراش جس پر اس نے لوگوں کو تراشا
……… ‏ یعنی پیدا کیا ہے

اقبال نے یہاں فطرت سے کائنات مراد لی ہے. اس کے بعد یہ بات وضاحت طلب ہے کہ فطرت نیچر کے مقاصد کیا ہیں؟ اس کا جواب بھی بہت تفصیل طلب ہے صرف اشارہ کافی ہے کہ فطرت کے مقاصد اقبال کے زاویہ نگاہ سے حسب ذیل ہیں.

(ا) بنی آدم کی فطری جبلی صلاحتوں کے بروئے کار آنے کے لیے، مناسب ماحول پیدا کرنا، اللہ نے انسان میں بہت سی خوبیاں بالقوۃ ودیعت فرمادی ہیں. اب یہ انسان کا فرض ہے کہ وہ ان خوبیوں کو قوۃ سے فعل میں لائے. یعنی بالفعل موجود کردے. پس جو شخص اس کام کے لیے مناسب ماحول پیدا کرتا ہے وہ دراصل فطرت کے مقاصد میں سے ایک بڑے مقصد کی نگہبانی کرتا ہے. بلکہ میری رائے میں بنی آدم کے حق میں احسان عظیم کرتا ہے.

چونکہ یہ کام، بدرجہ کمال صرف حکومت کر سکتی ہے اس لیے اسلام نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ تم جب حکمراں ہوجاؤ حکومت الٰہیہ قائم کرو کرنا، کیونکہ اسی حکومت کی بدولت فطرت کے تمام مقاصد کی نگہبانی اور تکمیل ہو سکتی ہے.

(ب) بنی آدم کو نیکی کی طرف مائل کرنا، اور ایسی تعلیم پھیلانا جس کی روشنی میں وہ اپنی فطرت کے اقتضاء یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ اور لفجوائے نص قرآنی یہی اقرار توحید الہی، دین حق یا دین فطرت یا دین قیم ہے.

(ج) ایسا نظام قائم کرنا، جس میں کوئی شخص، کسی شخص پر ظلم نہ کر سکے. اس جگہ میں نے لفظ ظلم کو اس کے وسیع ترین معنوں میں استعمال کیا ہے.

یعنی کائنات میں، اگر کوئی شئے، اپنے طبعی یا فطری محل کے علاوہ کسی اور جگہ پائی جائے تو یہ ظلم ہے.

ظلم صرف یہی نہیں کہ ایک طاقتور آدمی کسی کمزور عورت کے کانوں سے بالیاں نوچ کر بھاگ جائے اور وہ عورت کچھ نہ کر سکے.

بلکہ یہ بھی ظلم ہی ہے کہ ایک متقی اور دیندار آدمی تو نان شبینہ کو محتاج ہو. اور ایک بدکار آدمی موٹر میں سوار ہوکر نکلے. یا ایک عالم آدمی تو گوشہ گمنامی میں پڑا رہے اور جہلا برسراقتدار ہوں. ان دو مثالوں سے ناظرین ظلم کا مفہوم بخوبی سمجھ سکتے ہیں.

خواضح ہوکہ اگر اسلامی نظام دنیا کے کسی خطہ میں قائم ہوجائے تو اسی قسم کا نہیں، بلکہ کسی قسم کا ظلم بھی وقوع پذیر نہیں ہوسکتا. کیونکہ اسلامی نظام کے کارکنوں کو ہر وقت یہ آیت عدل وانصاف کا سبق پڑھاتی رہے گی.

…….. بیشک اللہ حکم دیتا ہے. انصاف کا اور احسان
…….. کا اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا الغرض اس میں کوئی شک نہیں کہ بندہ مومن ہی فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کر سکتا ہے.

(٢) اور یہ بندہ مومن، مقاصد فطرت ہی کا نگہبان نہیں ہوتا، بلکہ فسوں گر مغربی تہذیب کا محاسب ہوتا ہے. وہ مغربی تہذیب جو لادینی اور انکار خدا پر مبنی ہے. جس کے اصول اور مبادی، اسلامی نظام کا تصورات یعنی کی ضد ہیں. بندہ مومن ہی اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو غیر قرآنی نظام کی خرابیوں سے آگاہ کرتا رہے. وہ بظاہر فقیرانہ زندگی بسر کرتا ہے. وہ اکثر اوقات نان جویں پر قناعت کرتا ہے. پیوند لگا ہوا کرتا پہنتا ہے کبھی کبھی فرش زمین ہی پر سو جاتا ہے لیکن شاہان عالم اس کے نام سے لرزہ براندام رہتے ہیں. انتہا یہ ہے کہ وہ عناصر کائنات پر حکومت کرتا ہے.

ہستی ادبے جہات اندر جہات
اوحریم ودر طوافش کائنات

(٣) بلبل بھی ایک پرندہ ہے. اور شہباز بھی ایک پرندہ ہی ہے. لیکن دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے. بلبل میں حسن اور نزاکت ضعیف ہے لیکن شہباز میں قوت اور شوکت ہے. اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بلبل چمن میں رہتی ہے، عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتی ہے. موسیقی اسکا شیوہ ہے، عاشقی اس کا پیشہ ہے نتیجہ ظاہر ہے. کہ باز کا ایک ناخن اس کو فنا کرنے کے لیے کافی ہے. اس کے مقابلہ میں باز کو دیکھو وہ بیابان میں رہتا ہے. گلوں سے تعلق تو بڑی بات ہے وہ علائق دنیوی سے اس قدر بے نیاز ہے کہ آشیانہ تک نہیں بناتا. کسی کا دست نگر نہیں. اپنی روزی اپنے زور بازو سے حاصل کرتا ہے. نتیجہ واضح ہے کہ تمام پرندوں کا بادشاہ ہے. جو حالت شیر کو دیکھ کر حیوانات کی ہوجاتی ہے، وہی حالت باز کو دیکھ کر طائروں کی ہوجاتی ہے.

اسی طرح جو قومیں بلبل کی طرح عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتی ہیں ضعیف ہو جاتی ہیں، اور دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتیں. اور جو قومیں جفاکش اور سادہ زندگی بسر کرتی ہیں. یعنی بدوی زندگی وہ طاقتور ہوجاتی ہیں.

(۴) اے شیخ! مکتب کی فضاء بھی اگرچہ بچہ بہت اچھی ہے. منطق اور فلسفہ کے مطالعہ سے دماغ ضرور منور ہو جاتا ہے لیکن مسلمان میں شان فاروقی یا شان سلمانی، بیابانی زندگی ہی سے پیدا ہوسکتی ہے. یعنی ایسی زندگی سے جس میں مسلمان اپنی خودی کی تربیت حاصل کر سکے. جس میں سادگی ہو تاکہ نفس امارہ قابو میں آ سکے اور انسان عیش وعشرت کا خوگر نہ ہوسکے. شان فاروقی سے اشارہ ہے حضرت فاروق اعظم کی زندگی کی طرف اور شان سلمانی سے اشارہ ہے حضرت سلمان فارسی کی طرف، اقبال کا منشا ان دو ناموں کے تذکرہ سے یہ ہے کہ مسلمان ان بزرگوں کی زندگیوں سے سبق حاصل کریں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں.

اس جگہ حضرت فاروق اعظم کی زندگی پر تبصرہ مقصود نہیں ہے صرف اتنا لکھنا کافی ہے کہ آج تک دنیا نے حضرت موصوف کا جواب پیدا نہیں کیا. خسروی اور درویشی کا ایسا کامل اجتماع آج تک کسی شخص واحد کی ذات میں نظر نہیں آیا. بات یہ ہے کہ انہوں نے مرکز کائنات محور موجودات سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کیمیا ساز سے فیض حاصل کیا تھا، اس لیے فقر اور شاہی دونوں خوبیاں ان میں بدرجہ اتم موجود ہوگئی تھیں. بلکہ وہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں خوبیوں کے مظہر کامل تھے.

فقر اور شاہی یہ دو موتی ہیں. جو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے سمندر سے حاصل کئے تھے. فقر کا موتی، آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ بن گیا، اور شاہی کا موتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں شمشیر بن گیا. اقبال نے کیا خوب کہا ہے.

خسروی شمشیر، درویشی نگہہ
گوہر تو گوہر از محیط لاالہ!

اس کے بعد ان دونوں صفات یعنی خسروی اور درویشی کی تجلی، صحابہ کرام کے قلوب پر عکس فگن ہوئی. اور ہر صحابی نے اپنے اپنے ظرف کے مطابق، اس نعمت خداداد سے اپنا اپنا دامن بھرا.

فقرو شاہی واردات مصطفےٰ است
ایں تجلیہائے ذات مصطفےٰ است

خوشا نصیب فاروق اعظم کے، کہ وہ ان صفات کے مظہر اتم ہوکر تاریخ عالم میں زندہ جاوید ہوگئے. نہ اب یہ تجلّی دوبارہ ممکن ہے. نہ فاروق اعظم کا جواب پیدا ہو سکتا ہے.

اسی لیے جب…….. میں ہندوستان میں کانگریسی وزارتیں پہلی مرتبہ قائم ہوئیں تو ہندو قوم کے سب سے بڑے آدمی مسٹر گاندھی، نے کانگریس وزیروں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ اگر تم حکمرانی کے لیے، کسی انسان کا نمونہ درکار ہوتو فاروق اعظم سے بہتر نمونہ دنیا میں نہیں مل سکتا.
…………
(۵) اسلام کی شراب تیزی سے بھی بھر کر ہے یعنی اسلامی تعلیمات سے مومن میں شمشیر براں کی صفت پیدا ہوجاتی ہے. اس لیے اس کا حریف یا مدمقابل ایسا شخص جو مومن کا مقابلہ کرسکے کہیں صدیوں میں جاکر پیدا ہوتا ہے.

نوٹ=
‏ محراب گل کی زبان سے اقبال نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ میری ناقص رائے میں ان کی پوری کتاب کا خلاصہ ہیں اسی لیے میں نے بھی ان کی تشریح میں قدرے وضاحت سے کام لیا ہے

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close