دل ما بیدلان بردند و رفتند

دل ما بیدلان بردند و رفتند

(1)
دل ما بیدلان بردند و رفتند
مثال شعلہ افسردند و رفتند
بیا یک لحظہ با عامان درآمیز
کہ خاصان بادہ ہا خوردند و رفتند
(اے اللہ ! تیرے برگزیدہ) بندے ہم بیدلوں کے دل چھین کر رخصت ہو گئے ، وہ شعلے کی طرح بجھے اور چلے گئے۔
آ، اب لمحہ بھر کے لیے ہم عامیوں کی صحبت اختیار کر ، خواص تو (تیری محبت کی) شراب سے لطف اندوز ہو کر چلے گئے ۔
(2)
سخن ہا رفت از بود و نبودم
من از خجلت لب خود کم گشودم
سجود زندہ مردان می شناسی
عیار کار من گیر از سجودم
میری ہستی و نیستی کے بارے میں باتیں ہو رہی تھیں؛ لیکن میں شرمندگی کے باعث (خاموش رہا)۔
تو زندہ مردوں کے سجدوں کو پہچانتا ہے؛ میرے کام کے معیار کا اندازہ میرے سجدوں سے کر لے (یعنی میرے سجدے بے ذوق اور کم قیمت ہیں۔
(3)
دل من در گشاد چون و چند است
نگاہش از مہ و پروین بلند است
بدہ ویرانہ ئے در دوزخ او را
کہ این کافر بسی خلوت پسند است
میرا دل دنیا کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہے؛ (حالانکہ) اس کی نگاہ چاند اور ثریا سے بھی بلند ہے۔
ا سے دوزخ میں کوئی ویرانہ عطا کر؛ کیونکہ یہ کافر (دل) بہت تنہائی پسند واقع ہوا ہے۔
(4)
چہ شور است این کہ در آب و گل افتاد
ز یک دل عشق را صد مشکل افتاد
قرار یک نفس بر من حرام است
بمن رحمی کہ کارم با دل افتاد
یہ کیا شور ہے جو میرے بدن میں برپا ہوا؛ ایک دل کے ہاتھوں عشق سینکڑوں مصیبتوں میں مبتلا ہو گیا۔
مجھ پر رحم کر کیونکہ میرا واسطہ دل سے آ پڑا ہے۔
(5)
جہان از خود برون آوردۂ کیست؟
جمالش جلوہء بے پردۂ کیست؟
مرا گوئی کہ از شیطان حذر کن
بگو با من کہ او پروردۂ کیست؟
کس نے جہان کو اپنے اندر سے پیدا کر دیا ہے؟ اس کا جمال کس کا جلوہ ء بے پردہ ہے؟
آپ مجھے کہتے ہیں کہ شیطان سے بچ کر رہ؛ یہ تو بتائیں کہ شیطان کس کا پروردہ ہے۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close