بپایان چون رسد این عالم پیر

(1)
بپایان چون رسد این عالم پیر
شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکن رسوا حضور خواجہ مارا
حساب من ز چشم او نہان گیر
خدایا! (قیامت کے روز) جب یہ جہان پیر انجام کو پہنچے، اور ہر پوشیدہ تقدیر ظاہر ہو جائے۔
اس دن مجھے میرے آقا کے سامنے رسوا نہ کرنا، میرا حساب لینا ، مگر آپ (صلعم) کی نگاہ سے پوشیدہ۔
(2)
بدن واماندہ و جانم در تک و پوست
سوی شہری کہ بطحا در رہ اوست
تو باش اینجا و با خاصان بیامیز
کہ من دارم ہوای منزل دوست
بدن تھک چکا ہے، مگر جان ابھی تک اس شہر (مدینہ منورہ ) کی جانب رواں دواں ہے، بطحا (مکہ مکرمہ ) جس کی راہ میں ہے۔
آپ یہاں (حرم شریف میں) اپنے خاص بندوں سے صحبت رکھیں، میں تو اپنے محبوب (صلعم) کے شہر کی خواہش رکھتا ہوں۔ (حضور اکرم (صلعم) کا ارشاد ہے کہ خواص اللہ تعالے کے لیے ہیں اور عامی میرے لیے ہیں)۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: