بہ آن قوم از تو میخواہم گشادی

(1)
بہ آن قوم از تو میخواہم گشادی
فقیہش بے یقینی کم سوادی
بسی نادیدنے را دیدہ ام من
“مرا اے کاشکی مادر نزادی”
میں آپ سے اس قوم کے حالات کی بہتری چاہتا ہوں، جس کے فقیہ ہا یقین سے بے بہرہ اور کم علم ہیں۔
میں نے بہت سی ایسی باتیں دیکھی ہیں، جو دیکھی نہیں جا سکتیں، ‘کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا’۔
(2)
نگاہ تو عتاب آلود تا چند
بتان حاضر و موجود تا چند
درین بتخانہ اولاد براہیم
نمک پروردۂ نمرود تا چند
کب تک آپ کی نگاہ غضب آلود رہے گی، یہ حاضر و موجود بت کب تک رہیں گے۔
(دنیا کے) اس بتکدے میں ابراہیم (علیہ) کی اولاد (مسلمان)، کب تک نمرود (غیر اللہ ) کی نمک خوار (غلام) رہے گی۔
(3)
سرود رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمی از حجاز آید کہ ناید؟
سرآمد روزگار این فقیری
دگر داناے راز آید کہ ناید؟
اب گذشتہ سرود واپس آئے یا نہ آئے؟ حجاز کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلے یا نہ چلے؟
اس فقیر (اقبال) کی زندگی تو ختم ہوئی، اب کوئی اور راز آشنا آئے یا نہ آئے۔
(4)
اگر می آید آن دانای رازی
بدہ او را نواے دل گدازی
ضمیر امتان را می کند پاک
کلیمی یا حکیمی نے نوازی
اگر وہ دانائے راز آئے ، تو اسے نوائے دلگداز عطا فرمائیں۔
امتوں کے دلوں کو یا تو کلیم پاک کرتا ہے، یا ایسا حکیم جو نے نواز (شاعر) ہو۔
(5)
متاع من دل درد آشنای است
نصیب من فغان نارسای است
بخاک مرقد من لالہ خوشتر
کہ ہم خاموش و ہم خونین نوای است
میری متاع بس ایک دل درد آشنا ہے، میرا مقصود بے اثر فریاد ہے۔
میری قبر کی مٹی پر لالے کا پھول ہی اچھا لگے گا، کیونکہ یہ میری طرح خاموش بھی ہے اور خونیں نوا بھی۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close