دلی در سینہ دارم بے سروری

(1)
دلی در سینہ دارم بے سروری
نہ سوزی در کف خاکم نہ نوری
بگیر از من کہ بر من بار دوش است
ثواب این نماز بے حضوری
میرے سینے میں ایک بے کیف دل ہے، نہ میری کف خاک میں سوز ہے نہ نور۔
مجھ سے نماز بے حضور کا صواب واپس لے لے، یہی میرے کندھوں پر بوجھ ہے۔
(2)
چہ گویم قصہ دین و وطن را
کہ نتوان فاش گفتن این سخن را
مرنج از من کہ از بے مہری تو
بنا کردم ہمان دیر کہن را
میں دین و وطن (کی کشمکش ) کا قصّہ کیا بیان کروں ، یہ بات ا علانیہ نہیں کہی جا سکتی۔
مجھ سے ناراض نہ ہونا، کیونکہ تیری عدم توجہی کے باعث میں نے پھر وہی پرانا بتخانہ تعمیر کر لیا ہے (کیونکہ آپ اہل دین کی دلجوئی نہیں فرماتے، اس لیے انہوں نے وطن کے بت کی پرستش شروع کر دی ہے۔
(3)
مسلمانی کہ در بند فرنگ است
دلش در دست او آسان نیاید
ز سیمائی کہ سودم بر در غیر
سجود بوذر و سلمان نیاید
جو مسلمان فرنگی (تصورات) کے بندھن میں گرفتار ہے، وہ آسانی سے دل کی دولت نہیں پا سکتا ۔
جو پیشانی غیر اللہ کے دروازے پر گھسی جاتی ہے؛ وہ ابوذر غفاری (رضی اللہ) اور سلمان فارسی (رضی اللہ) جیسے سجدے کرنے سے قاصر ہے۔
(4)
نخواہم این جھان و آن جہان را
مرا این بس کہ دانم رمز جان را
سجودی دہ کہ از سوز و سرورش
بوجد آرم زمین و آسمان را
نہ میں اس جہاں (دنیا) کی خواہش رکھتا ہوں، نہ اس جہاں (آقا) کی۔
مجھے ایسا سجدہ عطا فرما ، جس کے سوز و سرور سے، میں زمین و آسمان کو وجد میں لے لوں۔
(5)
چہ میخواہی ازین مرد تن آساے
بہ ہر بادی کہ آمد رفتم از جای
سحر جاوید را در سجدہ دیدم
بہ صبحش چہرہ شامم بیارای
آپ اس آرام طلب بندے (اقبال) سے کیا توقع رکھتے ہیں، جسے ہوا کا ہر جھونکا اپنی جگہ سے ہٹا دیتا ہے۔
صبح میں نے جاوید کو سجدے میں دیکھا ، اس کی صبح سے میری شام کو آراستہ کر دیں (اس کی جوانی میرے بڑھاپے کے لیے باعث فخر ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: