دل از دست کسی بردن نداند

(1)
دل از دست کسی بردن نداند
غم اندر سینہ پروردن نداند
دم خود را دمیدی اندر آن خاک
کہ غیر از خوردن و مردن نداند
(یہ انسان ) کسی کا دل لینا جانتا ہی نہیں، نہ اپنے سینے میں غم کی پرورش کرنا جانتا ہے۔
آپ نے اس خاک میں اپنی روح پھونکی ہے، جو کھانے اور مرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتی۔
(2)
دل ما از کنار ما رمیدہ
بہ صورت ماندہ و معنی ندیدہ
ز ما آن راندہ درگاہ خوشتر
حق او را دیدہ و ما را شنیدہ
ہمارا دل ہمارے پہلو سے جا چکا ہے، وہ ظاہر میں پھنس کر رہ گیا ہے اور حقیقت کو نہیں دیکھتا۔
ہم سے وہ مردود بارگاہ (شیطان) ہی اچھا ہے، اس کے لیے حق تعالے دیکھا ہوا ہے اور ہم نے صرف اس کے بارے میں سنا ہے۔
(3)
نداند جبرئیل این ہای و ہو را
کہ نشناسد مقام جستجو را
بپرس از بندۂ بیچارۂ خویش
کہ داند نیش و نوش آرزو را
جبریل (علیہ) اس ہائے و ہو سے آگاہ نہیں، کیونکہ وہ مقام جستجو کے فراق سے ناواقف ہے۔
آپ اپنے اس بندہء ناچیز کی خبر گیری کریں، جو آرزو کے زہر و تریاق سے آگاہ ہے۔
(4)
شب این انجمن آراستم من
چو مہ از گردش خود کاستم من
حکایت از تغافلہای تو رفت
ولیکن از میان برخاستم من
اس محفل (دنیا) کی رات میں نے آراستہ کی، میں نے چاند کی طرح اپنی گردش سے اپنے آپ کو کم کر لیا۔
آپ کی بے التفاتی کی باتیں ہو رہی تھیں، لیکن میں درمیان سے اٹھ کر چلا گیا۔
(5)
چنین دور آسمان کم دیدہ باشد
کہ جبرئیل امین را دل خراشد
چہ خوش دیری بنا کردند آنجا
پرستد مومن و کافر تراشد
آسمان نے ایسا دور کم ہی دیکھا ہو گا، یہ جس نے جبریل امین (علیہ) کا دل بھی زخمی کر دیا۔
یہ کیسا اچھا بتخانہ تعمیر کیا گیا ہے، جہاں کافر بت تراشتا ہے مسلمان اس کی پوجا کرتا ہے (مسلمان کافروں کے نظریات کی پیروی کر رہے ہیں)۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close