دل بے قید من در پیچ و تابیست

(1)
دل بے قید من در پیچ و تابیست
نصیب من عتابی یا خطابیست
دل ابلیس ھم نتوانم آزرد
گناہ گاہگاہ من صوابیست
میرا آزاد دل اس پیچ و تاب میں ہے کہ میری قسمت میں عتاب ہے یا اعزاز ۔
میں تو شیطان کا دل بھی نہیں دکھا سکتا؛ کبھی کبھی میرا گناہ بھی نیکیاں ہیں۔
(2)
صبنت الکاس عنا ام عمرو
وکان الکاس مجراہا الیمنیا
اگر این است رسم دوستداری
بدیوار حرم زن جام و مینا
اے ام عمرو! تو نے ہم سے شراب کا پیالہ روک لیا، حالانکہ پیالے کا دور دائیں جانب سے چلنا تھا۔
اگر دوست داری کا یہی انداز ہے، تو جام و مینا کو حرم کی دیوار سے دے مار۔
(3)
بخود پیچیدگان در دل اسیرند
ھمہ دردند و درمان ناپذیرند
سجود از ما چہ میخواہی کہ شاہان
خراجی از دہ ویران نگیرند
اپنے آپ میں گم لوگ دل کے ہاتھوں قید ہیں؛ وہ سراپا درد ہیں مگر علاج کے خواہاں نہیں۔
ہم سے سجدے کا مطالبہ کیوں؟ بادشاہ ویران گاؤں سے لگان وصول نہیں کرتے۔
(4)
روم راہی کہ او را منزلی نیست
از آن تخمی کہ ریزم حاصلی نیست
من از غمہا نمی ترسم ولیکن
مدہ آن غم کہ شایان دلی نیست
اپنے آپ میں گم لوگ دل کے ہاتھوں قید ہیں؛ وہ سراپا درد ہیں مگر علاج کے خواہاں نہیں۔
ہم سے سجدے کا مطالبہ کیوں؟ بادشاہ ویران گاؤں سے لگان وصول نہیں کرتے۔
(5)
می من از تنک جامان نگہ دار
شراب پختہ از خامان نگہ دار
شرر از نیستانے دور تر بہ
بہ خاصان بخش و از عامان نگہ دار
میری شراب کو کم ظرف لوگوں سے بچا؛ یہ تیز و تند شراب ہے اسے خاموں سے دور رکھ۔
چنگاری نیستاں سے دور ہی بہتر ہے؛ میری التجا ہے کہ تو اسے خاص لوگوں کو عطا کر اور عامیوں سے بچائے رکھ۔
(6)
ترا این کشمکش اندر طلب نیست
ترا این درد و داغ و تاب وتب نیست
از آن از لامکان بگریختم من
کہ آنجا نالہ ہای نیم شب نیست
تجھے جستجو میں (میری طرح) تگ و دو حاصل نہیں؛ تو عشق کے درد و سوز اور اس کے پیچ و تاب سے آشنا نہیں ہے۔
میں لا مکاں سے اس لیے گریزاں رہتا ہوں کہ وہاں نالہ ہائے نیم شب نہیں۔
(7)
ز من ہنگامہ ئی وہ این جہان را
دگرگون کن زمین و آسمان را
ز خاک ما دگر آدم برانگیز
بکش این بندہ سود و زیان را
اس جہان کو میرے کلام کی بدولت ایسا ہنگامہ عطا کر، جس سے زمین و آسمان میں انقلاب برپا ہو جائے۔
ہماری خاک سے نیا آدم پیدا کر ، اس نفع و نقصان کے غلام (طالب دنیا) کو ختم کر دے۔
(8)
جہانی تیرہ تر با آفتابی
صواب او سراپا نا صوابی
ندانم تا کجا ویرانہ ئے را
دہی از خون آدم رنگ و آبی
یہ جہان سورج سے روشن ہونے کی بجائے اور تاریک ہو گیا ہے، اس کی خوبیاں بھی سر تا پا برائیاں ہیں۔
میں نہیں جانتا کہ تو کب تک اس ویرانہ (ءدنیا) کو خون آدم سے آب و تاب دیتا رہے گا۔
(9)
غلامم جز رضای تو نجویم
جز آن راہی کہ فرمودی نپویم
ولیکن گر بہ این نادان بگوئی
خری را اسب تازی گو نگویم

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: