مسلمان فاقہ مست و ژندہ پوش است

(1)
مسلمان فاقہ مست و ژندہ پوش است
ز کارش جبرئیل اندر خروش است
بیا نقش دگر ملت بریزیم
کہ این ملت جہان را بار دوش است
موجودہ مسلمان فاقہ مست اور گدڑی پوش ہے، اس کی حالت دیکھ کر جبریل امین بھی فریاد کناں ہیں۔
آ کہ ہم نئی ملت کی بنیاد رکھیں، کیونکہ یہ ملت تو دنیا کے لیے بار دوش ہے۔
(2)
دگر ملت کہ کاری پیش گیرد
دگر ملت کہ نوش از نیش گیرد
نگردد با یکی عالم رضامند
دو عالم را بہ دوش خویش گیرد
ایسی ملت جو کچھ کر کے دکھائے ، ایسی ملت جو زہر سے تریاق حاصل کرے (مشکلات سے نئی زندگی پائے)۔
جو ایک جہان پر اکتفا نہ کرے، بلکہ دونوں جہانوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے۔
(3)
دگر قومی کہ ذکر لاالہش
برآرد از دل شب صبحگاہش
شناسد منزلش را آفتابی
کہ ریگ کہکشان روبد ز راہش
وہ قوم جس کا ورد لاالہ ، رات کے اندر سے اپنی صبح پیدا کر لے ۔
آفتاب بھی اس کی منزل کو پہچانے، اور اس کی راہ سے کہکشاں کی ریت صاف کر دے۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close