یکی اندازہ کن سود و زیان را

(1)
یکی اندازہ کن سود و زیان را
چو جنت جاودانی کن جہان را
نمی بینی کہ ما خاکی نہادان
چہ خوش آراستیم این خاکدان را
(بار الہا) ذرا نفع و نقصان کا اندازہ کر، اس دنیا کو بھی بہشت کی طرح غیر فانی بنا دے۔
کیا تو نہیں دیکھتا کہ ہم خاکی سرشت والوں نے، اس زمین کو کس خوش اسلوبی سے سجایا ہے۔
(2)
تو میدانی حیات جاودان چیست؟
نمی دانی کہ مرگ ناگہان چیست؟
ز اوقات تو یکدم کم نگردد
اگر من جاودان باشم زیان چیست؟
آپ جانتے ہیں کہ حیات جاوداں کیا ہے، مگر آپ یہ نہیں جانتے کہ مرگ ناگہاں کیا ہے۔
آپ کے اوقات (حیات) میں سے ایک گھڑی بھی کم نہ ہو گی، اگر میں غیر فانی ہو جاؤں تو اس میں (آپ کا) کیا نقصان ہے؟

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close