(Bal-e-Jibril-106) (کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق) Kabhi Tanhai-e-Koh-o-Daman Ishq

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق
کبھی سوز و سرور و انجمن عشق
کبھی سرمایہ محراب و منبر
کبھی مولا علی خیبر شکن عشق!

از- علامہ محمد اقبال ؒ

(کبھی پہاڑ کی تنہائی اور وادی میں عشق)
(کبھی غم و خوشی اور مجلس میں عشق)
(کبھی مومن کا قیمتی وقت اور جمع پونجی مسجد اور منبر پر)
(اور کبھی علی مولا* کے خیبر کو شکست کرنے میں عشق)

*مولا (مومنوں کی جانوں کے مالک)

Roman Urdu:

Kabhi Tanhai-e-Koh-o-Daman Ishq
Kabhi Souz-o-Suroor-o-Anjuman Ishq

Kabhi Sarmaya-E-Mehrab-o-Manbar
Kabhi Moula Ali (R.A.) Khaybar Shikan Ishq!

English Translation:

Love, sometimes, is in the solitude of Hills and Valleys

Sometimes, is in sadness and happiness and gathering

Love, Sometime invested in the mosque and the pulpit,
Sometime Lord Ali (Owner of believes lives) the Vanquisher of the Khyber!

Means lovers somethings busy in praying in mosque and sometimes in fighting in the way of Allah in battlefields.

Dr. Allama Muhammad Iqbal r.a


اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ذاتِ بابرکت کی عَظَمت ورفعت بتانے کیلئے مُختلِف مَواقع پر آیاتِ مُبارَکہ نازِل فرمائیں۔ چنانچہ

مومنوں کے مَولیٰ کون؟

اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے ۔

فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ(۴) (پ۲۸،التحریم:۴)

”تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔“

حضرت علامہ سیِد محمود آلوسی بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں 

حضرت اسماء بنتِ عُمیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سُنا 

کہ صَالِحُ المُؤمِنین سے مُراد حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔

ایسے ہی حضرتِ ابُو جَعفَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ جب یہ آیتِ کَرِیمہ نازِل ہوئی تو نبیِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا ہاتھ پکڑ کرفرمایا:

اے لوگوں یہ(یعنی حضرتِ علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) صَالِحُ المُؤمِنین ہیں۔
(روح المعانی ،ج۲۸، ص۴۸۲)

 

حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے جو حض ادا فرمایا، اس سے واپسی پر سفر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ نے راستے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور نماز میں سب کو جمع ہونے کا حکم دیا۔( نماز کے بعد) آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:’’کیا مومنوں پر میرا خود ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں؟‘‘ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ پھر فرمایا:’’ کیا ہر مومن پر میرا خود اس کی ذات سے زیادہ حق نہیں؟‘‘ صحابہ نے کہا: یقیناً ہے۔ تو آپ نے فرمایا:’’ جس کا میں مولا (مالک/دوست) ہوں، یہ بھی اس کا مولا (مالک/دوست) ہے۔ اے اللہ! جو اس( علی) سے دوستی رکھے تو اسے سے دوستی رکھ۔ اے اللہ! جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔‘‘
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 116)

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close