(Bang-e-Dra-154) شب معراج (Shab-e-Mairaj)

شب معراج

اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز
سجدہ کرتی ہے سحر جس کو، وہ ہے آج کی رات
رہ یک گام ہے ہمت کے لیے عرش بریں
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

از- علامہ محمد اقبال ؒ

ترجمہ:

(آسمان سے شام کے ستارے کی آواز آرہی ہے
کہ جس رات کو صبح سجدہ کرتی ہے، وہ یہی رات ہے
ہمت ہو تو عرشِ بریں ایک قدم کا راستہ ہے
معراج کی رات مسلمانوں کو یہی سبق دے رہی ہے)

تشریح:

اس بلاغت آفریں قطعہ میں اقبالؔ نے معراجِ نبوی ﷺ (جو رجب کی ستائیسویں (27)، ہجرت سے دو سال پہلے واقع ہوئی تھی)، یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ اگر مسلمان ہمت کرکے اپنے اعمال کو، اپنی ذات کو، اپنی خودی کو، اپنی اخلاقیات کو رسول اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھال لئے تو اُسے بھی قربِ الہی حاصل ہوسکتا ہے، بالفاظِ دیگر اگر مسلمان سرکارِ دوعالم ﷺ کی سنت کی کامل اتباع کرے تو وہ بھی اللہ تعالی کے قریب ہو سکتا ہے۔
”جو اللہ تعالی کا قرب و محبت حاصل کرنا چاہتا وہ خود کو حضوراکرم ﷺ کے رنگ میں رنگ لے، چیز کو حضور ﷺ نے ناپسند کیا اس کو چھوڑ دے اور جس کو پسند کیا اسے اپنا لے۔“

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ} ﴿31﴾
{اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے پیروی اختیار کرو اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔} (قرآن3:31)

اقبال نے یہ نکتہ حضور انورﷺ کے اِس ارشادِ گرامی کی بدولت پیدا کیا ہے “الصلوۃ معراج المومنین” یعنی نماز مومنوں کی معراج (قربِ الہی کا ذریعہ) ہے۔
اس قطعہ کو پڑھتے وقت معراج کے دو معنی مدِ نظر رکھیے:
1۔ معراج کے اصطلاحی معنی یعنی حضور ﷺ کی مراج (جس میں کوئی شریک نہیں)
2۔ معراج کے مرادی معنی یعنی قُربِ خداوندی (جو ہر مومن کو رسول اکرم ﷺ کی اتباع کر کے نصیب ہوسکتی ہے۔)

Roman Urdu:
Shab-e-Meeraj
Akhtar-e-Shaam Ki Ati Hai Falak Se Awaz
Sajda Karti Hai Sahar Jis Ko, Woh Hai Aaj Ki Raat

Reh-e-Yak Gaam Hai Himmat Ke Liye Arsh-e-Bareen
Keh Rahi Hai Ye Musalman Se Meeraj Ki Raat

English Translation:
The Night Of The Celestial Ascension Of The Prophet (PBUH)

This call of the evening star is coming from the sky
This is the night before which the dawn prostrates

“For courage, the Arsh‐i‐Barin is only a pace away”
The Mi’raj’s night is saying this to the Muslim

Dr. Allama Muhammad Iqbal r.a

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: