(Armaghan-e-Hijaz-25) (گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو) Garam Ho Jata Hai Jab Mehkoom Qaumon Ka Lahoo

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو

پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انساں کا ضمیر
کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو
ظن و تخمیں: شک اور اندازہ۔
چراغ آرزو: خواہش کا دیا۔
وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں
عشق سیتا ہے انھیں بے سوزن و تار رفو
چاک: پھٹا ہونا۔
بے سوزن و تار رفو: سوئی اور دھاگے کے بغیر۔
ضربت پیہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاش
حاکمیت کا بت سنگیں دل و آئینہ رو
پیہم: لگاتار چوٹ لگانا۔ ضربت
پاش پاش: ٹکڑے ٹکڑے۔
سنگیں دل: سخت دل، پتھر دل۔
آئینہ رو: خوصورت، حسین۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: