(Armaghan-e-Hijaz-26) (دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہین) Durraj Ki Parwaz Mein Hai Shaukat-e-Shaheen

دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں

دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں
حیرت میں ہے صیاد، یہ شاہیں ہے کہ دراج!
دراج: تیتر۔
ہر قوم کے افکار میں پیدا ہے تلطم
مشرق میں ہے فردائے قیامت کی نمود آج
تلاطم: طغیانی۔
فردائے قیامت: کل آنے والی قیامت۔
نمود: ظہور۔
فطرت کے تقاضوں سے ہوا حشر پہ مجبور
وہ مردہ کہ تھا بانگ سرافیل کا محتاج
حشر: جب مردے دوبارہ زندہ ہوں گے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: