(Armaghan-e-Hijaz-28) (نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری) Nikl Kar Khanqahon Se Ada Ker Rasm-e-Shabiri

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
رسم شبیری: وہ رسم جو حضرت امام حسین (رضی اللہ) نے کربلا میں ادا کی۔
فقر خانقاہی: مراد ہے موجودہ پیری مریدی۔
فقط اندوہ و دلگیری: صرف رنج و ملال۔
ترے دین و ادب سے آ رہی ہے بوئے رہبانی
یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری
بوئے رہبانی: تارک دنیا کی بو۔
شیاطین ملوکیت کی آنکھوں میں ہے وہ جادو
کہ خود نخچیر کے دل میں ہو پیدا ذوق نخچیری
ذوق نخچیری: شکار ہو جانے کی چاہت۔
چہ بے پروا گذشتند از نواے صبحگاہ من
کہ برد آں شور و مستی از سیہ چشمان کشمیری!
میری صبح کے وقت کی آواز سے اہل کشمیر اس طرح بے پرواہ ہو کر گزرے ہیں کہ جیسے ان کی سیاہ آنکھوں سے کوئی وہ شور و مستی لے گیا ہو جس سے وہ دوسروں پر جادو کر سکتے تھے۔ مراد یہ ہے کہ یہی کشمیری جو آج غلامی اور بے بسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں کبھی آزاد اور زندگی کے ہر شعبے میں سرفراز تھے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: