(Armaghan-e-Hijaz-29) (سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر) Samajha Lahoo Ki Boond Agar Tu Isse Tou Khair

سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر

سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر
دل آدمی کا ہے فقط اک جذبۂ بلند

گردش مہ و ستارہ کی ہے ناگوار اسے
دل آپ اپنے شام و سحر کا ہے نقش بند
نقش بند: نقشہ بنانے والا۔
جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: