(Armaghan-e-Hijaz-30) (کھلا جب چمن میں کتب خانہ گل ) Khula Jab Chaman Mein Kutab Khana’ay Gul

کھل جب چمن میں کتب خانۂ گل

کھل جب چمن میں کتب خانۂ گل
نہ کام آیا مل کو علم کتابی
کتب خانہء گل: باغ کو پھولوں کی کتابوں کے گھر سے تشبیح دی ہے۔
متانت شکن تھی ہوائے بہاراں
غزل خواں ہوا پیرک اندرابی
متانت: سنجیدگی۔
پیرک اندرابی: اندراب وسط ایشیا میں بلخ کے پاس ایک قصبہ ہے جہاں کے کچھ لوگ ہجرت کر کے کشمیر میں آباد ہوئے۔ یہ لوگ علم و ادب اور حسب و نسب کے اعتبار سے ممتاز جانے جاتے ہیں۔
کہا للہ آتشیں پیرہن نے
کہ اسرار جاں کی ہوں میں بے حجابی
لالہ آتشیں: سرخ لباس پہنے ہوئے لالہ کا پھول۔
اسرار جاں: زندگی کا بھید۔
بے حجابی: بے پردگی ؛ مراد ہے زندگی کے ھید کا ظاہر ہو جانا۔
سمجھتا ہے جو موت خواب لحد کو
نہاں اس کی تعمیر میں ہے خرابی
خواب لحد: قبر کی نیند۔
نہاں: چھپی ہوئی۔
نہیں زندگی سلسلہ روز و شب کا
نہیں زندگی مستی و نیم خوابی

حیات است در آتش خود تپیدن
خوش آں دم کہ ایں نکتہ را بازیابی
زندگی اپنی آگ میں تڑپنے کا نام ہے ، مبارک ہو تیرے ل یے وہ لمحہ جب تو اس باریک بات کو پھر سے سمجھ لے؛ مراد ہے اپنے اندر عشق کا جذبہ پیدا کر۔
اگر ز آتش دل شرارے بگیری
تواں کرد زیر فلک آفتابی
اگر تو دل کی آگ سے ایک چنگاری حاصل کر لے یعنی اپنے اندر ایسا دل پیدا کر لے جس میں عشق کی آگ ہو اور اس آگ سے غیر اللہ کے خس و خاشاک کو جلا کر اپنے دل میں اللہ کو بسا لے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ تو آسمان کے نیچے یعنی دنیا میں آفتاب طلوع کر سکتا ہے – خود بھی روشن ہو سکتا ہے اور اہل جہان کو بھی روشنی دے سکتا ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: