(Armaghan-e-Hijaz-34) (نشان یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا) Nishan Yehi Hai Zamane Mein Zinda Qaumon Ka

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں

کمال صدق و مروت ہے زندگی ان کی
معاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں
کمال صدق و مروت: سچائی اور حسن سلوک کی انتہا۔
تقصیریں: غلطیاں، کوتاہیاں۔
قلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلل
یہ امتیں ہیں جہاں میں برہنہ شمشیریں

خودی سے مرد خود آگاہ کا جمال و جلل
کہ یہ کتاب ہے، باقی تمام تفسیریں
مرد خود آگاہ: اپنی پہچان کر چکنے والا آدمی۔
شکوہ عید کا منکر نہیں ہوں میں، لیکن
قبول حق ہیں فقط مرد حر کی تکبیریں
مرد حر: آزاد مرد۔
شکوہ: شان و شوکت۔
حکیم میری نواوں کا راز کیا جانے
ورائے عقل ہیں اہل جنوں کی تدبیریں
ورائے عقل:عقل سے بالا ؛ سمجھ نہ آنے والا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: