(Armaghan-e-Hijaz-36) (ضمیر مغرب ہے تاجرانہ ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ) (Zameer-e-Maghrib Hai Tajirana, Zameer-e-Mashriq Hai Rahibana

ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ

ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ

کنار دریا خضر نے مجھ سے کہا بہ انداز محرمانہ
سکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طریقے ہیں ساحرانہ
بہ انداز محرمانہ: دوستانہ طریقے سے۔
ساحرانہ: جادوگری انداز۔
حریف اپنا سمجھ رہے ہیں مجھے خدایان خانقاہی
انھیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے شق نہ ہو سنگ آستانہ
حریف: مدمقابل، دشمن۔
خدایان خانقاہی: مراد ہے پیر۔
شق نہ ہو سنگ آستانہ: شق کے معنی ٹوٹنا؛ مراد ہے مقبرے تہس نہس نہ ہو جائیں۔
غلم قوموں کے علم و عرفاں کی ہے یہی رمز آشکارا
زمیں اگر تنگ ہے تو کیا ہے، فضائے گردوں ہے بے کرانہ
علم و عرفاں: ظاہری اور باطنی علم۔
رمز آشکارا: صاف سامنے آنے والا بھید۔
گردوں ہے بے کرانہ:آسمان بغیر کنارے کے ہے۔
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
خدا فریبی: خدا کو دھوکہ دینا۔
خود فریبی: اپنے آپ کو دھوکہ دینا۔
مری اسیری پہ شاخ گل نے یہ کہہ کے صیاد کو رلیا
کہ ایسے پرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشیانہ
پرسوز نغمہ خواں: جس کے نغموں میں سوز ہو۔
گراں: بھاری۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: