(Armaghan-e-Hijaz-40) (غریب شہر ہوں میں، سن تو لے میری فریاد) Ghareeb-e-Shehar Hun Mein, Sun To Le Meri Faryad

غریب شہر ہوں میں، سن تو لے مری فریاد

غریب شہر ہوں میں، سن تو لے مری فریاد
کہ تیرے سینے میں بھی ہوں قیامتیں آباد

مری نوائے غم آلود ہے متاع عزیز
جہاں میں عام نہیں دولت دل ناشاد
نوائے غم آلود: غم سے بھری آواز۔
دل ناشاد: غمزدہ دل۔
متاع عزیز: قیمتی دولت۔
گلہ ہے مجھ کو زمانے کی کور ذوقی سے
سمجھتا ہے مری محنت کو محنت فرہاد
کور ذوقی: ذوق کا اندھا پن۔
صدائے تیشہ کہ بر سنگ میخورد دگر است
خبر بگیر کہ آواز تیشہ و جگر است
وہ آواز جو ہتھوڑے کے پتھر پر پڑنے سے نکلتی ہے اور ہے اور جو جگر پر پڑنے سے نکلتی ہے اور ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: