(Bang-e-Dra-002) (گل رنگین) Gul-e-Rangeen

گل رنگیں

تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہیں
اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
شناسا: واقف، جاننے والا۔
عقدئہ مشکل: وہ گتھی جسے سلجھانا آسان نہ ہو۔
گل رنگیں: رنگوں بھرا پھول۔
زیب محفل ہے، شریک شورش محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں
زیب محفل: محفل کی زینت۔
فراغت: فرصت، مہلت۔
اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو
اور تیری زندگانی بے گداز آرزو
گداز: نرم، گھولنا۔
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نہیں

آہ! یہ دست جفاجو اے گل رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھائوں کہ میں گلچیں نہیں
گل رنگیں: رنگوں بھرا پھول۔
گلچیں: پھول چننے والا۔
کام مجھ کو دیدئہ حکمت کے الجھیڑوں سے کیا
دیدئہ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ ترا
دیدئہ حکمت: تدبیر والی آنکھ۔
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
مستور: چھپا ہوا۔
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے

مطمئن ہے تو، پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں
زخمی شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں میں
زخمی شمشیر ذوق جستجو: تلاش کے شوق کی تلوار کا زخمی۔
یہ پریشانی مری سامان جمعیت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ ہو
سامان جمعیت: سکون اور تسلی کا سبب۔
چراغ خانہ حکمت: عقل و دانش کے گھر کا چراغ۔
ناتوانی ہی مری سرمایہ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آ ینہ حیرت نہ ہو
جام جم: جمشید بادشاہ کا پیالہ۔
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
ادراک: عقل۔
توسن: گھوڑا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: