(Bang-e-Dra-003) (عہد طفلی) Ehad-e-Tifli

عہد طفلی

تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے
وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے
دیار نو: نیا شہر۔
آغوش مادر: ماں کی گود۔
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے
حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے

درد، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
آواز پا: پاؤں کی آہٹ۔
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر
دروغ مصلحت آمیز: اچھا نتیجہ پیدا کرنے والا جھوٹ۔
آنکھ وقف دید تھی، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا میرا، سراپا ذوق استفسار تھا
وقف دید: دیکھنے میں مصروف۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: