(Bang-e-Dra-014) (شمع و پروانہ) Shama-o-Parwana

شمع و پروانہ

پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوں
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں

سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے
آداب عشق تو نے سکھائے ہیں کیا اسے؟
سیماب وار: پارہ کی طرح بے قرار۔
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کیا تری برق نگاہ کا؟

آزار موت میں اسے آرام جاں ہے کیا؟
شعلے میں تیرے زندگی جاوداں ہے کیا؟
آزار موت: مرنے کا دکھ۔
غم خانہ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو
نخل تمنا: آرزو کا درخت۔
تفتہ دل: جلا ہوا دل۔
گرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے
ننھے سے دل میں لذت سوز و گداز ہے

کچھ اس میں جوش عاشق حسن قدیم ہے
چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلیم ہے

پروانہ، اور ذوق تماشائے روشنی
کیڑا ذرا سا، اور تمنائے روشنی

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: