(Bang-e-Dra-016) (صداے درد) Sada’ay Dard

صدائے درد

جل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محیط آب گنگا تو مجھے
محيط آب گنگا: گنگا کے گھیر لینے والے پانی۔
سرزمیں اپنی قیامت کی نفاق انگیز ہے
وصل کیسا، یاں تو اک قرب فراق انگیز ہے
نفاق انگيز: نفاق پیدا کرنے والی، ایسی چیز جس کے ظاہر اور باطن میں فرق ہو۔
قرب فراق انگيز: ایسی نزدیکی جس میں جدائی ملی ہوئی ہو۔
بدلے یک رنگی کے یہ نا آشنائی ہے غضب
ایک ہی خرمن کے دانوں میں جدائی ہے غضب

جس کے پھولوں میں اخوت کی ہوا آئی نہیں
اس چمن میں کوئی لطف نغمہ پیرائی نہیں
اخوت: بھائی چارا، اتحاد۔
نغمہ پيرائي: گیت گانا، راگ الاپنا۔
لذت قرب حقیقی پر مٹا جاتا ہوں میں
اختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں میں
اختلاط: میل جول۔
دانہ خرمن نما ہے شاعر معجز بیاں
ہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں
دانہ خرمن نما: وہ دانہ جو کھلیان کا پتا بتائے۔
شاعر معجز بياں: وہ شاعر جس کا کلام معجزہ معلوم ہو۔
حسن ہو کیا خود نما جب کوئی مائل ہی نہ ہو
شمع کو جلنے سے کیا مطلب جو محفل ہی نہ ہو
خود نما: اپنے آپ کو نمایاں کرنے والا۔
ذوق گویائی خموشی سے بدلتا کیوں نہیں
میرے آئینے سے یہ جوہر نکلتا کیوں نہیں
گويائي: بولنے کی لذّت ، بات کہنے کا شوق۔ ذوق
کب زباں کھولی ہماری لذت گفتار نے
پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پیکار نے
آتش پيکار: لڑائی کی آگ۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: