(Bang-e-Dra-017) (آفتاب) Aftab

آفتاب

اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو
شیرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو
شیرازہ بند: انتظام و انصرام کرنے والے۔
باعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کا
ہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود کا
ہست و بود: مراد ہے زندگی کا چمن۔
قائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہے
ہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے

ہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہے
تیرا یہ سوز و ساز سراپا حیات ہے
ثبات: قائم؛ پائیداری۔
وہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے
دل ہے، خرد ہے، روح رواں ہے، شعور ہے
خرد: عقل۔
اے آفتاب، ہم کو ضیائے شعور دے
چشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دے

ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو
یزدان ساکنان نشیب و فراز تو
ساکنان نشیب و فراز: مراد ہے امیر اور غریب۔
تیرا کمال ہستی ہر جاندار میں
تیری نمود سلسلہ کوہسار میں

ہر چیز کی حیات کا پروردگار تو
زائیدگان نور کا ہے تاجدار تو
زائیدگان نور: نور سے پیدا ہونے والا۔
نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری
آزاد قید اول و آخر ضیا تری

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: