(Bang-e-Dra-018) (شمع) Shama

شمع

بزم جہاں میں میں بھی ہوں اے شمع! دردمند
فریاد در گرہ صفت دانہ سپند
فریاد در گرہ: جس کی گرہ میں فریاد ہو یعنی فریادی۔
صفت دانہ سپند: حرمل کا دانہ جس کا رنگ کالا ہوتا ہے۔
دی عشق نے حرارت سوز دروں تجھے
اور گل فروش اشک شفق گوں کیا مجھے
شفق گوں: شفق کی مانند سرخ۔
ہو شمع بزم عیش کہ شمع مزار تو
ہر حال اشک غم سے رہی ہمکنار تو

یک بیں تری نظر صفت عاشقان راز
میری نگاہ مایہ آشوب امتیاز
یک بیں: ایک دیکھنے والی۔
آشوب امتیاز: فرق اور امتیاز رکھنے کی بیماری یعنی کمزوری۔
کعبے میں، بت کدے میں ہے یکساں تری ضیا
میں امتیاز دیر و حرم میں پھنسا ہوا

ہے شان آہ کی ترے دود سیاہ میں
پوشیدہ کوئی دل ہے تری جلوہ گاہ میں؟

جلتی ہے تو کہ برق تجلی سے دور ہے
بے درد تیرے سوز کو سمجھے کہ نور ہے

تو جل رہی ہے اور تجھے کچھ خبر نہیں
بینا ہے اور سوز دروں پر نظر نہیں

میں جوش اضطراب سے سیماب وار بھی
آگاہ اضطراب دل بے قرار بھی

تھا یہ بھی کوئی ناز کسی بے نیاز کا
احساس دے دیا مجھے اپنے گداز کا

یہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے قرار
خوابیدہ اس شرر میں ہیں آتش کدے ہزار
آگہی: واقفیت۔
یہ امتیاز رفعت و پستی اسی سے ہے
گل میں مہک، شراب میں مستی اسی سے ہے

بستان و بلبل و گل و بو ہے یہ آگہی
اصل کشاکش من و تو ہے یہ آگہی
کشاکش: کھینچا تانی۔
صبح ازل جو حسن ہوا دلستان عشق
آواز ‘کن’ ہوئی تپش آموز جان عشق
دلستان عشق: عشق کا دل لینے والا۔
یہ حکم تھا کہ گلشن ‘کن’ کی بہار دیکھ
ایک آنکھ لے کے خواب پریشاں ہزار دیکھ

مجھ سے خبر نہ پوچھ حجاب وجود کی
شام فراق صبح تھی میری نمود کی

وہ دن گئے کہ قید سے میں آشنا نہ تھا
زیب درخت طور مرا آشیانہ تھا

قیدی ہوں اور قفس کو چمن جانتا ہوں میں
غربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں میں

یاد دطن فسردگی بے سبب بنی
شوق نظر کبھی، کبھی ذوق طلب بنی

اے شمع! انتہائے فریب خیال دیکھ
مسجود ساکنان فلک کا مآل دیکھ
مسجود ساکنان فلک: وہ جس کو فلک پر رہنے والوں نے سجدہ کیا، یعنی انسان۔
مضموں فراق کا ہوں، ثریا نشاں ہوں میں
آہنگ طبع ناظم کون و مکاں ہوں میں
آہنگ: آواز۔
باندھا مجھے جو اس نے تو چاہی مری نمود
تحریر کر دیا سر دیوان ہست و بود
دیوان ہست و بود: ہونے نہ ہونے کا قصّہ ، مراد ہے یہ دنیا۔
گوہر کو مشت خاک میں رہنا پسند ہے
بندش اگرچہ سست ہے، مضموں بلند ہے

چشم غلط نگر کا یہ سارا قصور ہے
عالم ظہور جلوہ ذوق شعور ہے

یہ سلسلہ زمان و مکاں کا، کمند ہے
طوق گلوئے حسن تماشا پسند ہے
کمند: چھت پر چڑھنے کے لیے استعمال ہونے والی رسی۔
طوق گلو: گلے میں ڈالنے والا پٹہ۔
منزل کا اشتیاق ہے، گم کردہ راہ ہوں
اے شمع ! میں اسیر فریب نگاہ ہوں
اسیر فریب نگاہ: نظر کے فریب کا قیدی۔
صیاد آپ، حلقہ دام ستم بھی آپ
بام حرم بھی، طائر بام حرم بھی آپ!
طائر بام: چھت پر بیٹھا پرندہ۔
میں حسن ہوں کہ عشق سراپا گداز ہوں
کھلتا نہیں کہ ناز ہوں میں یا نیاز ہوں

ہاں، آشنائے لب ہو نہ راز کہن کہیں
پھر چھڑ نہ جائے قصہ دار و رسن کہیں
دار و رسن: پھانسی کا پھندا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: