(Bang-e-Dra-021) (درد عشق ) Dard-e-Ishq

درد عشق

اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو
نامحرموں میں دیکھ نہ ہو آشکار تو
گہر آب دار: چمکدار موتی۔
پنہاں تہ نقاب تری جلوہ گاہ ہے
ظاہر پرست محفل نو کی نگاہ ہے
ظاہر پرست: چیزوں کے ظاہر پر مرنے والا۔
آئی نئی ہوا چمن ہست و بود میں
اے درد عشق! اب نہیں لذت نمود میں
ہست و بود: ہستی اور وجود۔
ہاں خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو
منت پذیر نالہء بلبل کا تو نہ ہو!
پذير منت: احسان مند۔
خالی شراب عشق سے لالے کا جام ہو
پانی کی بوند گریہء شبنم کا نام ہو

پنہاں درون سینہ کہیں راز ہو ترا
اشک جگر گداز نہ غماز ہو ترا
غماز: ظاہر ہو۔
گویا زبان شاعر رنگیں بیاں نہ ہو
آواز نے میں شکوہ فرقت نہاں نہ ہو
آواز نے: بانسری کی آواز۔
یہ دور نکتہ چیں ہے، کہیں چھپ کے بیٹھ رہ
جس دل میں تو مکیں ہے، وہیں چھپ کے بیٹھ رہ

غافل ہے تجھ سے حیرت علم آفریدہ دیکھ!
جویا نہیں تری نگہ نارسیدہ دیکھ
جويا: متلاشی۔
رہنے دے جستجو میں خیال بلند کو
حیرت میں چھوڑ دیدہء حکمت پسند کو

جس کی بہار تو ہو یہ ایسا چمن نہیں
قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں

یہ انجمن ہے کشتہء نظارہء مجاز
مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز

ہر دل مے خیال کی مستی سے چور ہے
کچھ اور آجکل کے کلیموں کا طور ہے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: