(Bang-e-Dra-022) (گل پژمردہ) Gul-e-Pazmurda

گل پژمردہ

کس زباں سے اے گل پژمردہ تجھ کو گل کہوں
کس طرح تجھ کو تمنائے دل بلبل کہوں
گل پژمردہ: مرجھایا ہوا پھول۔
تھی کبھی موج صبا گہوارہء جنباں ترا
نام تھا صحن گلستاں میں گل خنداں ترا
گہوارہء جنباں: ہلنے والا جھولا، پالنا۔
تیرے احساں کا نسیم صبح کو اقرار تھا
باغ تیرے دم سے گویا طبلہء عطار تھا
طبلہء عطار: عطر فروخت کرنے والے کا صندوقچہ۔
تجھ پہ برساتا ہے شبنم دیدہء گریاں مرا
ہے نہاں تیری اداسی میں دل ویراں مرا

میری بربادی کی ہے چھوٹی سی اک تصویر تو
خوا ب میری زندگی تھی جس کی ہے تعبیر تو
تعبير: بیان کرنا ، خاص کر خواب کا نتیجہ بیا ن کرنا۔
ہمچو نے از نیستان خود حکایت می کنم
بشنو اے گل! از جدائی ہا شکایت می کنم
میں بانسری کی طرح اپنے نیستاں کی کہانی سناتا ہوں۔ اے پھول سن! ‘میں بھی جدائی کا گلہ کرتا ہوں۔ (یہ شعر مولانا روم کی مثنوی کے پہلے شعر سے اخذ کیا ہے، مراد ہے کہ جس طرح مرجھایا ہوا پھول زبان حال سے اپنی پہلی کیفیّت اور چمن کی حکایت سناتا ہے)۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: