(Bang-e-Dra-024) (ماہ نو) Mah-e-Nau

ماہ نو

ٹوٹ کر خورشید کی کشتی ہوئی غرقاب نیل
ایک ٹکڑا تیرتا پھرتا ہے روئے آب نیل
روئے آب: پانی کی سطح۔
طشت گردوں میں ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب
نشتر قدرت نے کیا کھولی ہے فصد آفتاب
گردوں: آسمان کا تھال، مراد ہے آسمان۔ طشت
خون ناب: خالص خون یعنی سرخ۔
فصد آفتاب: سورج کے خون کی نالی۔
چرخ نے بالی چرا لی ہے عروس شام کی
نیل کے پانی میں یا مچھلی ہے سیم خام کی
چرخ: آسمان۔
عروس: دلہن۔
سیم خام: خالص چاندی۔
قافلہ تیرا رواں بے منت بانگ درا
گوش انساں سن نہیں سکتا تری آواز پا
بے منت بانگ درا: گھنٹی کی آواز کے احسان کے بغیر۔
گوش: کان۔
پا: پاؤں۔
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو
ہے وطن تیرا کدھر، کس دیس کو جاتا ہے تو

ساتھ اے سیارہء ثابت نما لے چل مجھے
خار حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے
سیارہء ثابت نما: وہ سیارہ جو حرکت کرتا ہے مگر محسوس ہوتا ہے کہ کھڑا ہے۔
نور کا طالب ہوں، گھبراتا ہوں اس بستی میں میں
طفلک سیماب پا ہوں مکتب ہستی میں میں
طفلک سیماب پا: ایسا بچہ جو ایک جگہ چین سے نہ ٹھہرے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: