(Bang-e-Dra-025) (انسان اور بزم قدرت) Insan Aur Bazm-e-Qudrat

انسان اور بزم قدرت

صبح خورشید درخشاں کو جو دیکھا میں نے
بزم معمورہ ہستی سے یہ پوچھا میں نے
خورشید درخشاں: چمکتا ہوا سورج۔
معمورہ ہستی: زندگی کی بستی یعنی دنیا۔
پر تو مہر کے دم سے ہے اجالا تیرا
سیم سیال ہے پانی ترے دریائوں کا
پر تو مہر: سورج کی روشنی۔
سیم سیال: بہتی ہوئی چاندی۔
مہر نے نور کا زیور تجھے پہنایا ہے
تیری محفل کو اسی شمع نے چمکایا ہے

گل و گلزار ترے خلد کی تصویریں ہیں
یہ سبھی سورہء ‘والشمس’ کی تفسیریں ہیں
خلد: جنت۔
سرخ پوشاک ہے پھولوں کی، درختوں کی ہری
تیری محفل میں کوئی سبز، کوئی لال پری

ہے ترے خیمہء گردوں کی طلائی جھالر
بدلیاں لال سی آتی ہیں افق پر جو نظر

کیا بھلی لگتی ہے آنکھوں کو شفق کی لالی
مے گلرنگ خم شام میں تو نے ڈالی
خم شام: شام کا پیالہ۔
رتبہ تیرا ہے بڑا، شان بڑی ہے تیری
پردہ نور میں مستور ہے ہر شے تیری

صبح اک گیت سراپا ہے تری سطوت کا
زیر خورشید نشاں تک بھی نہیں ظلمت کا
سطوت: رعب، دبدبہ۔
میں بھی آباد ہوں اس نور کی بستی میں مگر
جل گیا پھر مری تقدیر کا اختر کیونکر؟

نور سے دور ہوں ظلمت میں گرفتار ہوں میں
کیوں سیہ روز، سیہ بخت، سیہ کار ہوں میں؟

میں یہ کہتا تھا کہ آواز کہیں سے آئی
بام گردوں سے وہ یا صحن زمیں سے آئی

ہے ترے نور سے وابستہ مری بود و نبود
باغباں ہے تری ہستی پے گلزار وجود
بود و نبود: ہونا نہ ہونا۔
انجمن حسن کی ہے تو، تری تصویر ہوں میں
عشق کا تو ہے صحیفہ، تری تفسیر ہوں میں
صحیفہ: آسمانی کتاب۔
میرے بگڑے ہوئے کاموں کو بنایا تو نے
بار جو مجھ سے نہ اٹھا وہ اٹھایا تو نے

نور خورشید کی محتاج ہے ہستی میری
اور بے منت خورشید چمک ہے تری

ہو نہ خورشید تو ویراں ہو گلستاں میرا
منزل عیش کی جا نام ہو زنداں میرا
زنداں: قید خانہ۔
آہ! اے راز عیاں کے نہ سمجھے والے
حلقہ، دام تمنا میں الجھنے والے
دام تمنا: خواہشات کا جال۔
ہائے غفلت کہ تری آنکھ ہے پابند مجاز
ناز زیبا تھا تجھے، تو ہے مگر گرم نیاز

تو اگر اپنی حقیقت سے خبردار رہے
نہ سیہ روز رہے پھر نہ سیہ کار رہے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: