(Bang-e-Dra-026) (پیام صبح) Payam-e-Subah

پیام صبح

اجالا جب ہوا رخصت جبین شب کی افشاں کا
نسیم زندگی پیغام لائی صبح خنداں کا
افشاں: ستارے سے جو عورتیں آرائش کے لیے بالوں میں لگاتی ہیں۔
جگایا بلبل رنگیں نوا کو آشیانے میں
کنارے کھیت کے شانہ ہلایا اس نے دہقاں کا

طلسم ظلمت شب سورہء والنور سے توڑا
اندھیرے میں اڑایا تاج زر شمع شبستاں کا

پڑھا خوابیدگان دیر پر افسون بیداری
برہمن کو دیا پیغام خورشید درخشاں کا
خوابیدگان دیر: بتخانے میں سونے والے۔
ہوئی بام حرم پر آ کے یوں گویا موذن سے
نہیں کھٹکا ترے دل میں نمود مہر تاباں کا؟

پکاری اس طرح دیوار گلشن پر کھڑے ہو کر
چٹک او غنچہ گل! تو موذن ہے گلستاں کا
چٹک او غنچہ گل: کےاے پھول کی ڈوڈی کھل جا۔
دیا یہ حکم صحرا میں چلو اے قافلے والو
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بیاباں کا

سوئے گور غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے
تو یوں بولی نظارا دیکھ کر شہر خموشاں کا
گور غریباں: کے سوئے
ابھی آرام سے لیٹے رہو، میں پھر بھی آئوں گی
سلادوں گی جہاں کو خواب سے تم کو جگائوں گی

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: