(Bang-e-Dra-028) (زہد اور رندی) Zhud Aur Rindi

ز ہد اور رندی

اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی
تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی

شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا
کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانی

کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعت
جس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانی
مضمر: چھپے ہوئے۔
لبریز مےء زہد سے تھی دل کی صراحی
تھی تہ میں کہیں درد خیال ہمہ دانی
ہمہ داني: سب کچھ جاننا۔
کرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنی
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی

مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرے
تھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانی

حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا
اقبال، کہ ہے قمری شمشاد معانی
قمري شمشاد: شمشاد کی قمری، مراد ہے بہت بلند۔
پابندی احکام شریعت میں ہے کیسا؟
گو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانی
کليم ہمداني: ہمایوں اور جہانگیر کے دور کا ایران کے شہر ہمدان میں پیدا ہونے والا نامور شاعر جو کشمیر میں فوت ہوا۔
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا
ہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانی

ہے اس کی طبیعت میں تشیع بھی ذرا سا
تفضیل علی ہم نے سنی اس کی زبانی
تشيع: شیعہ پن۔
علي: حضرت علی (رضی الّہ) باقی خلفاء سے بلند مرتبت سمجھنا۔ تفضيل
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخل
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی

کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہے
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی

گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی

لیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نے
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی

مجموعہ اضداد ہے، اقبال نہیں ہے
دل دفتر حکمت ہے، طبیعت خفقانی
مجموعہ اضداد: متضاد عادات کا حامل۔
خفقاني: سودائی۔
رندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقف
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی

اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتی
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی

القصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے
تا دیر رہی آپ کی یہ نغز بیانی
نغز بياني: خوش گفتاری۔
اس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میں
میں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانی

اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد
پھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانی

فرمایا، شکایت وہ محبت کے سبب تھی
تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی

میں نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہے
یہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانی
قرب مکاني: ہمسائیگی ، پڑوسی ہونا۔
خم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگے
پیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی

گر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقت
پیدا نہیں کچھ اس سے قصور ہمہ دانی

میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا
گہرا ہے مرے بحر خیالات کا پانی

مجھ کو بھی تمنا ہے کہ ‘اقبال’ کو دیکھوں
یکی اس کی جدائی میں بہت اشک فشان
اشک فشاني: آنسو بہانا۔
اقبال بھی ‘اقبال’ سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں، واللہ نہیں ہے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: