(Bang-e-Dra-030) (دل) Dil

دل

قصہ دار و رسن بازی طفلانہ دل
التجائے ‘ارنی’ سرخی افسانہء دل
بازي طفلانہ: بچوں کا کھیل۔
یا رب اس ساغر لبریز کی مے کیا ہو گی
جاوہ ملک بقا ہے خط پیمانہ دل
جادہ ملک بقا: ہمیشہ کی زندگی کا راستہ۔
ابر رحمت تھا کہ تھی عشق کی بجلی یا رب
جل گئی مزرع ہستی تو اگا دانہء دل
مزرع: کھیتی۔
حسن کا گنج گراں مایہ تجھے مل جاتا
تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانہ دل!
گنج گراں: بے بہا خزانہ۔
عرش کا ہے کبھی کعبے کا ہے دھوکا اس پر
کس کی منزل ہے الہی! مرا کاشانہ دل

اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا
دل کسی اور کا دیوانہ، میں دیوانہء دل

تو سمجھتا نہیں اے زاہد ناداں اس کو
رشک صد سجدہ ہے اک لغزش مستانہء دل

خاک کے ڈھیر کو اکسیر بنا دیتی ہے
وہ اثر رکھتی ہے خاکستر پروانہ دل
خاک کے ڈھير: مراد ہے انسان۔
عشق کے دام میں پھنس کر یہ رہا ہوتا ہے
برق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے
نخل: پودا، درخت۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: