(Bang-e-Dra-031) (موج دریا) Mouj-e-Darya

موج دریا

مضطرب رکھتا ہے میرا دل بے تاب مجھے
عین ہستی ہے تڑپ صورت سیماب مجھے
سيماب: پارہ۔
موج ہے نام مرا، بحر ہے پایاب مجھے
ہو نہ زنجیر کبھی حلقہء گرداب مجھے
پاياب: تھوڑا پانی جس سے آومی پیدل گزر جائے۔
آب میں مثل ہوا جاتا ہے توسن میرا
خار ماہی سے نہ اٹکا کبھی دامن میرا
توسن: گھوڑا۔
خار ماہي: مچھلی پکڑنے والا کانٹا۔
میں اچھلتی ہوں کبھی جذب مہ کامل سے
جوش میں سر کو پٹکتی ہوں کبھی ساحل سے
جذب مہ کامل: پورے چاند کی کشش۔
ہوں وہ رہرو کہ محبت ہے مجھے منزل سے
کیوں تڑپتی ہوں، یہ پوچھے کوئی میرے دل سے

زحمت تنگی دریا سے گریزاں ہوں میں
وسعت بحر کی فرقت میں پریشاں ہوں میں

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close