(Bang-e-Dra-038) (سرگزشت آدم) Sargazash-e Adam

سرگزشت آدم

سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
بھلایا قصہ پیمان اولیں میں نے
پيمان اوليں: پہلا عہد، مراد ہے روز ازل۔
لگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میں
پیا شعور کا جب جام آتشیں میں نے
جام آتشيں: تیز شراب کا پیالہ ۔
رہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کو
دکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نے
آسمان تک پہنچنے والا خیال۔ خيال فلک نشيں:
ملا مزاج تغیر پسند کچھ ایسا
کیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نے
تغير پسند: بدلنے والا۔
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی
کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نے

کبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچا
چھپایا نور ازل زیر آستیں میں نے

کبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا
کیا فلک کو سفر، چھوڑ کر زمیں میں نے

کبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوں
دیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نے

سنایا ہند میں آ کر سرود ربانی
پسند کی کبھی یوناں کی سر زمیں میں نے
سرود رباني: مراد ہے اللہ کا پیغام۔
دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی
بسایا خطہء جاپان و ملک چیں میں نے

بنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالم
خلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نے

لہو سے لال کیا سینکڑوں زمینوں کو
جہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نے
پيکار عقل و ديں: عقل اور دین کی جنگ۔
سمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کی
اسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے

ڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریں
سکھایا مسئلہ گردش زمیں میں نے

کشش کا راز ہویدا کیا زمانے پر
لگا کے آئنہ عقل دور بیں میں نے
ہويدا: ظاہر۔
کیا اسیر شعاعوں کو، برق مضطر کو
بنادی غیرت جنت یہ سر زمیں میں نے

مگر خبر نہ ملی آہ! راز ہستی کی
کیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نے
تہ نگيں: تسخیر۔
ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر
تو پایا خانہء دل میں اسے مکیں میں نے
مظاہر پرست: قدرت کے مظاہر کو پوجنے والے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: