(Bang-e-Dra-042) (ہندوستانی بچوں کا گیت) Hindustani Bachon Ka Qaumi Geet

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
چشتي: حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری۔
نانک: سکھ مذہب کے بانی گورو بابا نانک۔
یونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
ٹوٹے تھے جو ستارے: مراد ہے پارسی قوم۔
بندے کلیم جس کے، پربت جہاں کے سینا
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا
رفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینا
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
سفينا: کشتی۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: