(Bang-e-Dra-063) (محبت) Mohabbat

محبت

عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی نا آشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے
عروس شب: رات کی دلہن۔
لذت رم: تگ و دو کا مزہ۔
قمر اپنے لباس نو میں بیگانہ سا لگتا تھا
نہ تھا واقف ابھی گردش کے آئین مسلم سے
آئین مسلم: مانا ہوا دستور۔
ابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیا
مذاق زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سے
امکاں: فلسفہ دانوں نے خدا کو واجب اور کائنات کو ممکن قرار دیا ہے؛ امکان کا لفظ انہی چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے۔
پہنائے عالم: جہان کی فراخی، یعنی جہان۔
کمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویا
ہویدا تھی نگینے کی تمنا چشم خاتم سے
چشم خاتم: انگوٹھی کی آنکھ
ہویدا: ظاہر۔
سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیاگر تھا
صفا تھی جس کی خاک پا میں بڑھ کر ساغر جم سے
عالم بالا: اوپر کی دنیا جو ہماری مادی دنیا سے الگ ہے۔
صفا: پاکیزگی۔
ساغر جم: جمشید بادشاہ کا پیالہ ۔
لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہ
چھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے

نگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیاگر کی
وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سے
اسم اعظم: سب سے بڑا نام ، مراد ہے اللہ تعالے کا ذاتی نام۔
بڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانب
تمنائے دلی آخر بر آئی سعی پیہم سے
دلی : دل کی خواہش۔ تمنائے
سعی پیہم: لگاتار کوشش۔
پھرایا فکر اجزا نے اسے میدان امکاں میں
چھپے گی کیا کوئی شے بارگاہ حق کے محرم سے

چمک تارے سے مانگی، چاند سے داغ جگر مانگا
اڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سے
زلف برہم: بکھرے بال۔
تیرگی: تاریکی۔
تڑپ بجلی سے پائی، حور سے پاکیزگی پائی
حرارت لی نفسہائے مسیح ابن مریم سے
اشارہ ہے حضرت عیسی (علیہ) کا مردوں کو زندہ کرنے کے معجزہ کی طرف۔ *
ذرا سی پھر ربوبیت سے شان بے نیازی لی
ملک سے عاجزی، افتادگی تقدیر شبنم سے
ربوبیت: پروردگارگی۔
افتادگی: نیچے گرنا ، مراد ہے خاکساری۔
پھر ان اجزا کو گھولا چشمہء حیواں کے پانی میں
مرکب نے محبت نام پایا عرش اعظم سے
چشمہء حیواں: زندگی کا چشمہ۔
عرش اعظم: سےوہ بلند ترین مقام جس پر الپہ تعالے دنیا تخلیق کرنے کے بعد براجمان ہوئے۔
مہوس نے یہ پانی ہستی نوخیز پر چھڑکا
گرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کار عالم سے
مہوس: کیمیاگر۔
ہستی نوخیز: تازہ پیدا کی گئی زندگی۔
ہوئی جنبش عیاں، ذروں نے لطف خواب کو چھوڑا
گلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے
جنبش عیاں: (زندگی کی) ہلچل شروع ہو گئی۔ ہوئی
خرام ناز پایا آفتابوں نے، ستاروں نے
چٹک غنچوں نے پائی، داغ پائے لالہ زاروں نے
خرام ناز: ناز سے چلنا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: