(Bang-e-Dra-071) (کلی) Kali

کلی

جب دکھاتی ہے سحر عارض رنگیں اپنا
کھول دیتی ہے کلی سینہء زریں اپنا
عارض رنگیں: خوبصورت رخسار۔
جلوہ آشام ہے صبح کے مے خانے میں
زندگی اس کی ہے خورشید کے پیمانے میں
جلوہ آشام: جلوہ پینے والا یعنی جلوے سے فائدہ اٹھانے والا۔
سامنے مہر کے دل چیر کے رکھ دیتی ہے
کس قدر سینہ شگافی کے مزے لیتی ہے
سینہ شگافی: سینہ کھول دینا۔
مرے خورشید! کبھی تو بھی اٹھا اپنی نقاب
بہر نظارہ تڑپتی ہے نگاہ بے تاب

تیرے جلوے کا نشیمن ہو مرے سینے میں
عکس آباد ہو تیرا مرے آئینے میں

زندگی ہو ترا نظارہ مرے دل کے لیے
روشنی ہو تری گہوارہ مرے دل کے لیے

ذرہ ذرہ ہو مرا پھر طرب اندوز حیات
ہو عیاں جوہر اندیشہ میں پھر سوز حیات
طرب اندوز حیات: زندگی کا لطف اٹھانے والا۔
اپنے خورشید کا نظارہ کروں دور سے میں
صفت غنچہ ہم آغوش رہوں نور سے میں
صفت غنچہ: غنچہ کی طرح۔
جان مضطر کی حقیقت کو نمایاں کر دوں
دل کے پوشیدہ خیالوں کو بھی عریاں کر دوں
جان مضطر: بے قرار جان۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: