(Bang-e-Dra-075) (عاشق ہرجائی) Ashiq-e-Harjai

عا شق ہر جائی

(1)
ہے عجب مجموعہء اضداد اے اقبال تو
رونق ہنگامہء محفل بھی ہے، تنہا بھی ہے
مجموعہء اضداد: ایسے اوصاف کا مجموعہ جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔
تیرے ہنگاموں سے اے دیوانہ رنگیں نوا!
زینت گلشن بھی ہے، آرائش صحرا بھی ہے

ہم نشیں تاروں کا ہے تو رفعت پرواز سے
اے زمیں فرسا، قدم تیرا فلک پیما بھی ہے
زميں فرسا: زمین پر چلنے پھرنے والا۔
عین شغل میں پیشانی ہے تیری سجدہ ریز
کچھ ترے مسلک میں رنگ مشرب مینا بھی ہے

مثل بوئے گل لباس رنگ سے عریاں ہے تو
ہے تو حکمت آفریں، لیکن تجھے سودا بھی ہے

جانب منزل رواں بے نقش پا مانند موج
اور پھر افتادہ مثل ساحل دریا بھی ہے
مانند موج: لہر کی طرح۔
حسن نسوانی ہے بجلی تیری فطرت کے لیے
پھر عجب یہ ہے کہ تیرا عشق بے پروا بھی ہے

تیری ہستی کا ہے آئین تفنن پر مدار
تو کبھی ایک آستانے پر جبیں فرسا بھی ہے ؟
تفنن: گوناگوئی۔
جبيں فرسا: پیشانی گھسنے والی
ہے حسینوں میں وفا نا آشنا تیرا خطاب
اے تلون کیش! تو مشہور بھی، رسوا بھی ہے
تلون کيش: وہ شخص جو اپنے انداز بدلتا رہے۔
لے کے آیا ہے جہاں میں عادت سیماب تو
تیری بے تابی کے صدقے، ہے عجب بے تاب تو

(2)
عشق کی آشفتگی نے کر دیا صحرا جسے
مشت خاک ایسی نہاں زیر قبا رکھتا ہوں میں
آشفتگي: پریشانی۔
ہیں ہزاروں اس کے پہلو، رنگ ہر پہلو کا اور
سینے میں ہیرا کوئی ترشا ہوا رکھتا ہوں میں

دل نہیں شاعر کا، ہے کیفیتوں کی رستخیز
کیا خبر تجھ کو درون سینہ کیا رکھتا ہوں میں
رستخيز: قیامت۔
آرزو ہر کیفیت میں اک نئے جلوے کی ہے
مضطرب ہوں، دل سکوں نا آشنا رکھتا ہوں میں

گو حسین تازہ ہے ہر لحظہ مقصود نظر
حسن سے مضبوط پیمان وفا رکھتا ہوں میں

بے نیازی سے ہے پیدا میری فطرت کا نیاز
سوز و ساز جستجو مثل صبا رکھتا ہوں میں

موجب تسکیں تماشائے شرار جستہ اے
ہو نہیں سکتا کہ دل برق آشنا رکھتا ہوں میں
شرار جستہ: تڑپ کر اچھلنے والی چنگاری۔
ہر تقاضا عشق کی فطرت کا ہو جس سے خموش
آہ! وہ کامل تجلی مدعا رکھتا ہوں میں

جستجو کل کی لیے پھرتی ہے اجزا میں مجھے
حسن بے پایاں ہے، درد لادوا رکھتا ہوں میں

زندگی الفت کی درد انجامیوں سے ہے مری
عشق کو آزاد دستور وفا رکھتا ہوں میں
درد انجاميوں: وہ کیفیت جس کی انتہا درد ہے۔
سچ اگر پوچھے تو افلاس تخیل ہے وفا
دل میں ہر دم اک نیا محشر بپا رکھتا ہوں میں
افلاس تخيل: خیال کی ناداری۔
فیض ساقی شبنم آسا، ظرف دل دریا طلب
تشنہء دائم ہوں آتش زیر پا رکھتا ہوں میں
شبنم آسا: شبنم کی مانند۔
مجھ کو پیدا کر کے اپنا نکتہ چیں پیدا کیا
نقش ہوں، اپنے مصور سے گلا رکھتا ہوں میں

محفل ہستی میں جب ایسا تنک جلوہ تھا حسن
پھر تخیل کس لیے لا انتہا رکھتا ہوں میں

در بیابان طلب پیوستہ می کوشیم ما
موج بحریم و شکست خویش بر دوشیم ما
میں تو تلاش و جستجو کے صحرا میں مسلسل جد و جہد میں مصروف ہوں اور سمندر کی موجوں کی طرح اپنی شکست کا سامان خود اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہوں۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: