(Bang-e-Dra-083) (پیام عشق) Payam-e-Ishq

پیام عشق

سن اے طلب گار درد پہلو! میں ناز ہوں، تو نیاز ہو جا
میں غزنوی سومنات دل کا، تو سراپا ایاز ہو جا

نہیں ہے وابستہ زیر گردوں کمال شان سکندری سے
تمام ساماں ہے تیرے سینے میں، تو بھی آئینہ ساز ہو جا

غرض ہے پیکار زندگی سے کمال پائے ہلال تیرا
جہاں کا فرض قدیم ہے تو، ادا مثال نماز ہو جا

نہ ہو قناعت شعار گلچیں! اسی سے قائم ہے شان تیری
وفور گل ہے اگر چمن میں تو اور دامن دراز ہو جا
وفور: بہتات۔
ہوقناعت شعار: قناعت پسند۔
دامن دراز: لمبے دامن والا۔
گئے وہ ایام، اب زمانہ نہیں ہے صحرانوردیوں کا
جہاں میں مانند شمع سوزاں میان محفل گداز ہو جا

وجود افراد کا مجازی ہے، ہستی قوم ہے حقیقی
فدا ہو ملت پہ یعنی آتش زن طلسم مجاز ہو جا
آتش زن:آگ لگانے والا۔
یہ ہند کے فرقہ ساز اقبال آزری کر رہے ہیں گویا
بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبار راہ حجاز ہو جا

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close