(Bang-e-Dra-085) (عبدلقادر کے نام) Abdul Qadir Ke Naam

عبدالقادر کے نام

اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں
خاور: مشرق۔
شعلہ نوائي: ایسے نغمے گانا جن سے شعلے نکل رہے ہوں، یعنی تڑپانے والے نغمے۔
ایک فریاد ہے مانند سپند اپنی بساط
اسی ہنگامے سے محفل تہ و بالا کر دیں

اہل محفل کو دکھا دیں اثر صیقل عشق
سنگ امروز کو آئینہ فردا کر دیں

جلوہ یوسف گم گشتہ دکھا کر ان کو
تپش آمادہ تر از خون زلیخا کر دیں
تپش آمادہ: تڑپانے کے لیے بیتاب اور بیقرار۔
اس چمن کو سبق آئین نمو کا دے کر
قطرہ شبنم بے مایہ کو دریا کر دیں
آئين نمو کا: پھلنے پھولنے کا قانون۔
رخت جاں بت کدہء چیں سے اٹھا لیں اپنا
سب کو محو رخ سعدی و سلیمی کر دیں

دیکھ! یثرب میں ہوا ناقہ لیلی بیکار
قیس کو آرزوئے نو سے شناسا کر دیں

بادہ دیرینہ ہو اور گرم ہو ایسا کہ گداز
جگر شیشہ و پیمانہ و مینا کر دیں
بادہ ديرينہ: پرانی شراب ، مراد ہے اسلام۔
گرم رکھتا تھا ہمیں سردی مغرب میں جو داغ
چیر کر سینہ اسے وقف تماشا کر دیں

شمع کی طرح جییں بزم گہ عالم میں
خود جلیں، دیدہ اغیار کو بینا کر دیں
ديدہ اغيار: دوسروں کی آنکھیں۔
ہر چہ در دل گذرد وقف زباں دارد شمع
سوختن نیست خیالے کہ نہاں دارد شمع
شمع کے دل پر جو کچھ گز رتا ہے، وہ اسے زبان پر لے آتی ہے؛ جینا کوئی خیال نہیں جسے شمع چھپا کر رکھ سکے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: