(Bang-e-Dra-086) (سسلي جزيرہ صقليہ) Sisli Jizira Siqaliya

سسلي جزيرہ صقليہ

رو لے اب دل کھول کر اے دیدہء خوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار
خوننابہ بار: خون برسانے والی، لہو رونے والی۔
تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی

زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے
بجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے

اک جہان تازہ کا پیغام تھا جن کا ظہور
کھا گئی عصر کہن کو جن کی تیغ ناصبور
عصر کہن: پرانا زمانہ۔
تيغ ناصبور: بے صبر تلوار۔
مردہ عالم زندہ جن کی شورش قم سے ہوا
آدمی آزاد زنجیر توہم سے ہوا

غلغلوں سے جس کے لذت گیر اب تک گوش ہے
کیا وہ تکبیر اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے؟

آہ اے سسلی! سمندرکی ہے تجھ سے آبرو
رہنما کی طرح اس پانی کے صحرا میں ہے تو

زیب تیرے خال سے رخسار دریا کو رہے
تیری شمعوں سے تسلی بحر پیما کو رہے
بحر پيما: سمندر ناپنے والا یعنی سمندر کا سفر کرنے والا۔
ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام
موج رقصاں تیرے ساحل کی چٹانوں پر مدام
ہمیشہ۔ :مدام
تو کبھی اس قوم کی تہذیب کا گہوارہ تھا
حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا

نالہ کش شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رویا خون کے آنسو جہاں آباد پر
نالہ کش: نوحہ کرنے والا۔
شيراز کا بلبل: مراد ہے سعدی شیرازی۔
آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کی
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فریاد کی

غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا
چن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا

ہے ترے آثار میں پوشیدہ کس کی داستاں
تیرے ساحل کی خموشی میں ہے انداز بیاں
آثار: کھنڈر، پرانی عمارتوں کے نشان۔
درد اپنا مجھ سے کہہ، میں بھی سراپا درد ہوں
جس کی تو منزل تھا، میں اس کارواں کی گرد ہوں

رنگ تصویر کہن میں بھر کے دکھلا دے مجھے
قصہ ایام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے

میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاوں گا
خود یہاں روتا ہوں، اوروں کو وہاں رلوائوں گا

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: