(Bang-e-Dra-091) (یوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے)

یوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے

یوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے
اک ذرا افسردگی تیرے تماشائوں میں تھی

پا گئی آسودگی کوئے محبت میں وہ خاک
مدتوں آوارہ جو حکمت کے صحرائوں میں تھی
حکمت: فلسفہ۔
آسودگي: آرام۔
کس قدر اے مے! تجھے رسم حجاب آئی پسند
پردہ انگور سے نکلی تو مینائوں میں تھی

حسن کی تاثیر پر غالب نہ آ سکتا تھا علم
اتنی نادانی جہاں کے سارے دانائوں میں تھی

میں نے اے اقبال یورپ میں اسے ڈھونڈا عبث
بات جو ہندوستاں کے ماہ سیمائوں میں تھی
ماہ سيمائوں: چاند جیسی پیشانی والے، مراد ہے حسین۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: