(Bang-e-Dra-093) March 1907 (مارچ ١٩٠٧) (زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدار یار ہو گا) Zamana Aya Hai Behijabi Ka, Aam Didar-e-Yar Ho Ga

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدار یار ہو گا

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدار یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگا
بے حجابي: چہرے سے پردہ اٹھانا۔
گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

کبھی جو آوارہ جنوں تھے، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہو گا
آوارہ جنوں: دیوانگی کے جوش میں آوارہ پھرنا۔
پائي: ننگے پاؤں۔ برہنہ
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا، پھر استوار ہو گا
گوش منتظر: انتظار میں لگے کان۔
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا
شير: مراد ہے ملت اسلامیہ۔
کیا مرا تذکرہ جوساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں
تو پیر میخانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے، خوار ہو گا
منہ پھٹ: سچی بات بے باکی سے کرنے والے۔
دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زر کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جوشاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا

سفینہ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا
برگ گل: پھول کی پتی کا سفینہ بنائے۔ سفينہ
مور ناتواں: کمزور چیونٹیاں ۔
چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا
یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہو گا

کہا جوقمری سے میں نے اک دن، یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
توغنچے کہنے لگے، ہمارے چمن کا یہ رازدار ہو گا

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

یہ رسم بزم فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبش نظر بھی
رہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہو گا

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہوگی آہ میری، نفس مرا شعلہ بار ہو گا
ظلمت شب: رات کا اندھیرا۔
درماندہ کارواں: بچھڑا ہوا قافلہ۔
نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کا
تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہو گا
غير از نمود: نمود و نمائش کے سوا۔
نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہو گا
ستم کش انتظار: انتظار کے ظلم کی سختیاں ۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close