(Bang-e-Dra-099) (تضمین بر شعر انیسی شاملو) Tazmeen Ber Shair-e-Aneesi Shamilo

تضمین بر شعر انیسی شاملو

ہمیشہ صورت باد سحر آوارہ رہتا ہوں
محبت میں ہے منزل سے بھی خوشتر جادہ پیمائی
کسی کے شعر کو اپنے شعروں میں لانا۔
دل بے تاب جا پہنچا دیار پیر سنجر میں
میسر ہے جہاں درمان درد نا شکیبائی
پير سنجر: اشارہ ہے حضرت خواجہ معین الدین اجمیری (رحمتہ) کی طرف جو سیستان کے مقام سنجر سے ہندوستان آئے۔
درد نا شکيبائي: بے صبری کا دکھ۔
ابھی نا آشنائے لب تھا حرف آرزو میرا
زباں ہونے کو تھی منت پذیر تاب گویائی
منت پذير تاب گويائي: تقریر کی طاقت کا احسان اٹھانا۔
یہ مرقد سے صدا آئی، حرم کے رہنے والوں کو
شکایت تجھ سے ہے اے تارک آئین آبائی!

ترا اے قیس کیونکر ہوگیا سوز دروں ٹھنڈا
کہ لیلی میں تو ہیں اب تک وہی انداز لیلائی

نہ تخم ‘لا الہ’ تیری زمین شور سے پھوٹا
زمانے بھر میں رسوا ہے تری فطرت کی نازائی
نازائي: بانجھ پن۔
تجھے معلوم ہے غافل کہ تیری زندگی کیا ہے
کنشتی ساز، معمور نوا ہائے کلیسائی
کنشتي ساز: بت خانے سے تعلق رکھنے والا۔
ہوئی ہے تربیت آغوش بیت اللہ میں تیری
دل شوریدہ ہے لیکن صنم خانے کا سودائی

وفا آموختی از ما، بکار دیگراں کر دی
ربودی گوہرے از ما نثار دیگراں کر دی
تو نے وفا کا سبق ہم سے حاصل کیا لیکن اس وفا کو اغیا ر کے کام میں لایا ، موتی ہم سے حاصل کئے، قربان دوسروں پر کر دیئے ۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: