(Bang-e-Dra-104) (ایک حاجی مدینے کے راستے میں) Aik Haji Madine Ke Raste Mein

ایک حاجی مدینے کے راستے میں

قافلہ لوٹا گیا صحرا میں اور منزل ہے دور
اس بیاباں یعنی بحر خشک کا ساحل ہے دور

ہم سفر میرے شکار دشنہء رہزن ہوئے
بچ گئے جو، ہو کے بے دل سوئے بیت اللہ پھرے
دشنہ: خنجر۔
اس بخاری نوجواں نے کس خوشی سے جان دی !
موت کے زہراب میں پائی ہے اس نے زندگی
زہراب: زہر بھرا پیالہ۔
خنجر رہزن اسے گویا ہلال عید تھا
‘ہائے یثرب’ دل میں، لب پر نعرہ توحید تھا

خوف کہتا ہے کہ یثرب کی طرف تنہا نہ چل
شوق کہتا ہے کہ تو مسلم ہے، بے باکانہ چل

بے زیارت سوئے بیت اللہ پھر جاوں گا کیا
عاشقوں کو روز محشر منہ نہ دکھلاوں گا کیا

خوف جاں رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے حجاز
ہجرت مدفون یثرب میں یہی مخفی ہے راز
: وہ پاک ذات جو مدینہ میں دفن ہے، مراد ہے محمد مصطفے (صلعم) مدفون يثرب
گو سلامت محمل شامی کی ہمراہی میں ہے
عشق کی لذت مگر خطروں کے جاں کاہی میں ہے
محمل شامي: غلاف کعبہ لانے والا وہ قافلہ جو شام سے آتا ہے۔
جاں کاہي: محنت۔
آہ! یہ عقل زیاں اندیش کیا چالاک ہے
اور تاثر آدمی کا کس قدر بے باک ہے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: