(Bang-e-Dra-108) (رات اور شاعر) Raat Aur Shayar

رات اور شاعر

رات
کیوں میری چاندنی میں پھرتا ہے تو پریشاں
خاموش صورت گل، مانند بو پریشاں

تاروں کے موتیوں کا شاید ہے جوہری تو
مچھلی ہے کوئی میرے دریائے نور کی تو

یا تو مری جبیں کا تارا گرا ہوا ہے
رفعت کو چھوڑ کر جو بستی میں جا بسا ہے
رفعت: بلندی۔
خاموش ہو گیا ہے تار رباب ہستی
ہے میرے آئنے میں تصویر خواب ہستی

دریا کی تہ میں چشم گرادب سو گئی ہے
ساحل سے لگ کے موج بے تاب سو گئی ہے
چشم گرداب: بھنور کی آنکھ۔
بستی زمیں کی کیسی ہنگامہ آفریں ہے
یوں سو گئی ہے جیسے آباد ہی نہیں ہے

شاعر کا دل ہے لیکن ناآشنا سکوں سے
آزاد رہ گیا تو کیونکر مرے فسوں سے؟

شاعر
میں ترے چاند کی کھیتی میں گہر بوتا ہوں
چھپ کے انسانوں سے مانند سحر روتا ہوں
گہر: موتی ، مراد ہے آنسو۔
دن کی شورش میں نکلتے ہوئے گھبراتے ہیں
عزلت شب میں مرے اشک ٹپک جاتے ہیں
عزلت شب: رات کی تنہائی ۔
مجھ میں فریاد جو پنہاں ہے، سناوں کس کو
تپش شوق کا نظارہ دکھاوں کس کو
پنہاں: چھپا ہوا۔
برق ایمن مرے سینے پہ پڑی روتی ہے
دیکھنے والی ہے جو آنکھ، کہاں سوتی ہے!

صفت شمع لحد مردہ ہے محفل میری
آہ، اے رات! بڑی دور ہے منزل میری
صفت شمع لحد: قبر پر بجھے ہوئے چراغ کی طرح۔
عہد حاضر کی ہوا راس نہیں ہے اس کو
اپنے نقصان کا احساس نہیں ہے اس کا

ضبط پیغام محبت سے جو گھبراتا ہوں
تیرے تابندہ ستاروں کو سنا جاتا ہوں

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close